حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 259

منعم اور بڑے بادشاہ نے فرمایا ہے۔اُس مولیٰ نے جس نے تم کو ہاتھ۔ناک۔کان دئے۔ایسا محسن۔مربّی۔اپنی پاک کتاب میں فرماتا ہے۔ ہوا اور کھانے پینے کے بغیر کسی کا گزارہ نہیں ہوتا۔مگر اب بھی ایسی قومیں ہیں کہ وہ کپڑے وغیرہ کا استعمال نہیں جانتیں۔بنارس میں ایک ساد ہو تھا۔وہ ننگا رہا کرتا تھا۔لوگ اس کی بڑی قدر کرتے تھے۔افریقہ میں بھی ایسے لوگ ہیں کہ بیویوں سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔مگر ان میں وحشت ہے اور ننگے رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ اپنے رسول کو فرماتا ہے۔کہ ہم نے تجھ کو لباس پہنایا۔ اس لئے کھڑا ہو جا۔اور کھڑے ہو کر جو لوگ بدکار ہیں۔نافرمان ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے حکموں کی پرواہ نہیں کرتے۔ان کو ڈراؤ۔میرا خیال ہے کہ جو حکم کوئی بادشاہ کسی جرنیل یا بڑے حاکم کو دیتا ہے۔اس کی تعمیل اس کی سپاہ اور رعایا پر بھی فرض ہو جاتی ہے یہ حکم حضرت نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم کے لئے ہے۔اس لئے یہ ہم پر بھی فرض ہے۔بہت سارے لوگ ایماندار بھی بنتے ہیںک اور پھر شرک بھی کرتے ہیں۔اکثر لوگوں کا اگر تم حکم مانو گے تو وہ تم کو گمراہ کر دیں گے خدا کا حکم مانو۔بادشاہ اور بڑے بڑے حکام لوگوں کی اصلاح کے لئے کیسے کیسے قانون بناتے ہیں۔اور دو تین برس اس کی نگرانی کرتے اور پھر اس کو جاری کرتے ہیں۔پھر اس پر نظر ثانی کر کے اصلاح کرتے ہیں۔پھر اس کو شائع کرتے ہیں۔غرض مقنّن اور تجربہ کار کیسی کیسی تکلیفیں لوگوں کی بھلائی کے لئے برداشت کرتے ہیں لیکن لوگ اس کی بھی نافرمانی کرتے ہیں۔دیکھو پولیس کیسی کوشش لوگوں کے امن و امان کے لئے کرتی ہے اگرچہ پولیس میں بھی بعض بدکار پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن تاہم وہ لوگوں سے چوری، بدکاری چھڑانے میں کوشاں رہتی ہے۔لیکن جس قدر نئے نئے قانون وضع ہوتے ہیں۔اسی قدر شریر لوگ شرارت کی راہیں نکال لیتے ہیں۔اس لئے ہر ایک شخص کو تم میں سے چاہیئے تھا کہ وہ اُٹھ کر ہر روز لوگوں کو سمجھائے۔اگر کوئی کسی کی بات نہیں مانتا۔تو اس کا کوئی مضائقہ نہیں۔لوگ بادشاہوں۔حکاموں اور دیگر اپنے بہی خواہوں کی نافرمانی کرتے ہیں۔اس لئے خدا کا حکم ہے۔کہ تمہارا کام سمجھانا اور ڈرانا ہے۔تم اپنا کام کئے جاؤ۔لوگوں کو سمجھاتے جاؤ اور ڈراتے جاؤ اور اس ڈرانے میں یہ کوشش کرو۔۔۔یعنی خدا تعالیٰ کی عظمت۔جبروت کا ذکر ہو اور اپنی غلطیوں کی بھی اصلاح کرو۔چوری۔بدنظری۔بدکرداری اور دیگر تمام بدیوں کو پہلے خود چھوڑ دو اور یہ وعظ اس لئے نہ ہو کہ بس آپ کھڑے ہوئے یہ کہو۔کہ میرے لئے کچھ پیسے جمع کرو۔بلکہ محض اﷲ کے لئے کرو۔میں سَاَلَ سَائِلٌ کے لئے پکا تھا۔مگر معلوم ہوتا ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے۔کہ ارادہ الہٰی کچھ اس طرح تھا۔یہ بڑا