حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 256 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 256

پس رسول کریمؐ کے زمانہ میں ایک طرف خدا کی بڑائی دوسری طرف مخلوق سے شفقت چھوٹ گئی تھی۔اور خدا کی جگہ مخلوق کو خدا بنایا گیا تھا۔اور مخلوق کو سُکھ پہنچانے کے بدلہ لاکھوں تکالیف پہنچائی جاتی تھیں۔اس لئے فرمایا۔أَنْذِرْ۔ڈرانے کی خبر سنا دے۔جب مرسل اور مامور آتے ہیں تو پہلے یہی حقوق ان کو سمجھائے جاتے ہیں۔پس ایسے وقت میں امراضِ طاعون وغیرہ آتے۔جنگ و قتال ہوتے۔یہ ضرورت نہیں کہ اس مامور کی اطلاع پہلے دی جاوے یا ان لوگوں کو مامور کا علم ہو۔کیونکہ لوگ تو پہلے خدا ہی کو چھوڑ بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں۔پھر کھڑا ہو کر کیا کرو۔۔خدا کی بزرگی بیان کر۔یہ حکم کی تعمیل تھی اَکْبَرْ سے آگے بڑائی کا کوئی لفظ نہیں اور اس کے معنے ہی یہی ہیں۔ایک وقت اآقا کہتا کہ میرا فلاں کام کرو۔دوسری طرف ایک شخص پکارتا کہ اﷲ اکبر۔آؤ نماز پڑھو۔خدا سے بڑا آقا کوئی نہیں۔ایک طرف بی بی عید کا سامان مانگتی ہے۔دوسری طرف خدا کہتا کہ فضولی نہ کر؟ اب یہ کدھر جاتا ہے۔نیک معاشرت۔نیک سلوک۔بی بی کی رضاجوئی اور خوش رکھنے کا حکم ہے اور مال جمع کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری طرف حکم ہے کہ ناجائز مال مت کھاؤ۔ایک طرف عفت اور عصمت کا حکم ہے۔دوسری طرف بی بی موجود نہیں ناصح کوئی نہیں۔اور نفس چاہتا ہے کہ عمدہ گوشت۔گھی انڈے۔زعفرانی متنجن۔کباب کھانے کے واسطے ہوں۔پھر رمضان میں اس سے بھی کچھ زیاہ ہوں۔اب بی بی تو ہے نہیں۔علم اور عمدہ خیالات نہیں پس اگر خدا کے حکم کے خلاف کرتا اور نفس کی خواہش کے مطابق عمدہ اغذیہ کھاتا تو لواطت۔جلق۔زنا۔بدنظری میں مبتلا ہو گا۔اسی طئے تو اصفیاء نے لکھا ہے کہ انسان ریاضت میں۔سادہ غذا کھاوے۔اس لئے ہمارے امام علییہ السلام نے یہاں نجم الدّین کو ایک روز تاکیدی حکم دیا کہ لوگ جو مہمان خانہ میں مجرّد ہیں عام طور پر گوشت ان کو مت دو بلکہ دال بھی پتلی دو۔اور بعض نادان اس سرّ کو نہیں سمجھتے اور شور مچاتے ہیں۔پس رسول کریمؐ نے وہ اﷲ اکبر مکانوں اور چھتوں اور دیواروں اور منبروں پر چڑھ کر سنایا پس شہوت اور غضب کے وقت بھی اس کو اکَبْرَ ہی سمجھو۔ایک شخص کو کسی شخص نے کہا کہ تو جُھوٹا ہے۔وہ بہت ناراض ہوا اور اس کی ناراضی امام کے کان میں پہنچی۔آپ ہنس پڑے اور فرمایا۔کاش کہ اسی قدر غضب کو ترقی دینے کی بجائے اپنے کسی جھوٹ کو یاد کر کے اس کو کم کرتا۔حرص آتی ہے اور اس کے واسطے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت کو یاد کر کے اس کو کم کرتا۔حرص آتی ہے اور اس کے واسطے روپیہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت کے وقت حلال حرام کا ایک ہی چُھرا چلا بیٹھتا ہے ایسا یہیں چاہیئے۔ایک طرف عمدہ کھانا۔عمدہ نہیں چاہتا۔دوسری