حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 204
آتا ہے۔قطع نظر اس کے ان نادانوں کو اتنا معلوم نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کی پاک تعلیم پر اس قسم کے اعتراف سے کیا حرف آتا ہے۔اور کیونکر انبیاء و رسل کے پاک سلسلہ پر سے امان اٹھ جاتا ہے۔پوچھتا ہوں کہ کوئی ہمیں بتائے کہ آدم ؑ سے لے کر نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم تک اور آپؐ سے لے کر اس وقت تک کیا کوئی ایسا مفتری گزرا ہے جس نے یہ دعوٰی کیا ہو کہ وہ خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہے۔اور وہ کلام جس کی بابت اس نے دعوٰی کیا ہو کہ خدا کا کلام ہے۔اس نے شائع کیا ہو اور پھر اسے مہلت ملی ہو۔قرآن شریف میں ایسے مفتری کا تذکرہ یا نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاک اقوال میں پاک لوگوں کے بیان میں اگر ہوا ہے تو دکھاؤ کہ اس نے تَقَوَّلَ عَلی اﷲ کیا ہواور بچ گیا ہو۔مَیں دعوٰی سے کہتا ہوں کہ وہ ایک مفتری بھی پیش نہ کر سکیں گے۔مہلت کا زمانہ میرے نزدیک وہ ہے جبکہ مکّہ میں اﷲ تعالیٰ کا کلام نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم پر یُوں نازل ہوا۔۔۔۔۔اگر یہ رسول کچھ اپنی طرف سے بنا لیتا اور کہتا کہ فلاں بات خدا نے میرے پر وحی کی ہے۔حالانکہ وہ اس کا اپنا کلام ہوتا۔نہ خا کا۔تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور پھر اس کی رگ ِ جان کاٹ دیتے۔اور کوئی تم میں سے اس کو بچا نہ سکتا کیسا صاف اور سچا معیار ہے کہ مفتری کی سزا ہلاکت ہے۔اور اسے کوئی مہلت نہیں دی جاتی یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی سچائی کی کیسی روشن دلیل اور ہر صادق مامور من اﷲکی شناخت کا کیسا خطانہ کرنے والا معیار ہے۔مگر اس پر بھی نادان کہتے ہیں کہ نہیں مفتری کو مہلت مل جاتی ہے۔یہ آیت مکّہ میں نازل ہوئی۔اب کیا مشکل ہے جو ہم اس زمانہ کو جو مفتری کے ہلاک ہونے اور راست باز کے راست باز ٹھہرائے جانے پر بطور معیار ہو سکتا ہے۔سمجھ لیں۔اس آیت کے نزول کا وقت صاف بتاتا ہے۔مگر اندھوں کو کون دکھا سکے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جبکہ جامع جمیع کمالات تھے۔آپؐ کی امّت ان تمام برکات اور فیوض کی جامع ہے۔جو پہلی امّتوں پر انفرادی طور پر ہوئے اور آپ ؐ کے اعداء تمام اخسرانوں کے جامع جو پہلے نبیوں کے محافظوں کے حصّہ میں آئے۔یہی وجہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ جب سورۂ شعراء میں ہر نبی کا قصّہ بیان فرماتا ہے تو اس کے بعد فرماتا ہے اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۱؎ غرض یہ آیت والی ہر ایک مفتری اور صادق مامور من اﷲ میں امتیاز کرنے والی