حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 203 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 203

بہت شامل ہوتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بر قادیان ۱۵؍دسمبر ۱۹۱۱ء) کوئی جھگڑے کی بات نہیں۔ہم شہادت پیش کرتے ہیں ان امور کو جو تم دیکھتے ہو اور پھر ان کو جو ابھی ظہور میں نہیں آئے اور تم نہیں دیکھتے جس سے ثابت ہو جائے گا۔کہ یہ قرآن مجید کسی کے خیالی پلاؤ نہیں۔بلکہ ایک معزز کے ذریعہ پہنچا ہے۔اور ربّ العالمین کا نازل شدہ کلام ہے۔( تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۵ صفحہ ۲۳۰) ۴۵ تا ۴۸۔۔۔۔۔: جھوٹی بات بنانا۔اس میں اس پیشگوئی کی طرف اشارہ ہے جو توریت میں مثیلِ موسٰی کے لئے کتاب استثناء باب ۱۸ میں مذکور ہے۔کہ اس نبی کی صداقت کا یہ نشان ہے کہ اگر وہ افتراء کرے گا تو قتل کیا جاوے گا۔یہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔کہ نہ وہ قتل ہوئے۔نہ ناکام رہے اور اس طرح پر آئندہ کے لئے ہر صادق مامور کے واسطے یہ ایک نشان ہوا کہ کوئی مفتری علی اﷲ افتراء کر کے ۲۳ سال تک زندہ نہیں رہ سکتا۔وَتِیْن: وہ رگ ہے جو قلب سے سر کو جاتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍ دسمبر ۱۹۱۱ء) باری تعالیٰ بڑا ثبوت آنحضرت ؐ کی نبوت کی صداقت کا دیا ہے۔۔۔۔یعنی اگر یہ شخص جھوٹا رسول ہوتا۔تو بیشک بیشک قتل کیا جاتا۔تباہ ہو جاتا۔مارا جاتا۔کیونکہ خدا وند خدا پہلے سے اپنے برگزیدہ نبی موسٰی کی معرفت اپنے اس اولوالعزم نبی کی بابت ارشاد اور وعدہ فرما چکا تھا۔اور اس سچّے نبی کی صداقت نبوت کی پہچان بھی بتا چکا تھا۔کہ وہ زندہ رہے گا۔ہاں وہ سلامت رہے گا۔اور اس کے مخالفین معبود انِ باطلہ کے عابد ہلاک ہو جاویں گے۔( فصل الخطاب حصّہ دوم طبع دوم صفحہ۹۰۔۹۱) میرے سامنے بعض نادانوں نے یہ عذر پیش کیا ہے کہ مفتری کے لئے مُہلت مل جاتی ہے۔قطع نظر اس بات کے اُن کے ایسے بیہودہ دعوٰی سے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی صداقت اور آپؐ کی نبوّت پر کس قدر حرف