حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 205
کی صداقت کا کامل معیار ہے۔کیکن اگر کوئی نادان کہے کہ اس سے تاریخ کا پتہ کیونکر لگائیں اور معیار مقررہ کیونکر معلوم ہو؟مَیں کہتا ہوں۔ان امور کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ یہ آیت مکّی ہے۔اگر اس پر بھی کوئی یہ کہے کہ مکّی اور مدنی آیتوں کا تفرقہ مشکلات میں ڈالتا ہے اور اصطلاحات میں اب تک بھی اختلاف چلا آتا ہے۔تو میں کہتا ہوں۔اس سے بھی ایک آسان تر راہ ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اس آیت کو آخری آیت ہی تجویز کر لو پھر بھی تم کو ماننا پڑے گا۔کہ تئیس برس تک خیرالرسل صلی اﷲ علیہ وسلم کی صداقت عظمت و جبروت۔عزّرت وجاھیّت۔تائید و نصرت۔دشمن کے خسران کے لئے ایک فیصلہ کن امر ہے۔اب بتا, کہ کیا حجّت باقی رہی۔مکّی مدنی کا فیصلہ نہ کرو۔اصطلاحات کے تفرقہ میں نہ پڑو۔اس تئیس سال کی عظیم الشان کامیابیوں کا کیا جواب دو گے۔پس بہر حال ماننا پڑے گا۔کہ اس قدر عرصہ دراز تک جو چوتھائی صدی تک پہنچتا ہے۔اﷲ تعالیٰ مفتری کو مہلت نہیں دیتا۔ایک راست باز کی صداقت کا پتہ اس کے چہرہ سے۔اُس کے چال چلن سے اُس کی تعلیم سے۔ان اعتراضوں سے جو اس پر کئے جاتے ہیں۔اس کے ملنے والوں سے لگ سکتا ہے۔لیکن اگر کوئی نادان ان امور سے پتہ نہ لگا سکے تو آخر تئیس سال کی کافی مہلت اور اُس کی تائیدیں اور نصرتیں۔اس کی سچائی پر مہر کر دیتی ہیں۔مَیں جب اپنے زمانہ کے راست باز کے مخالفوں اور حضرت نوح علیہ السلام کے مخالفوں کے حالات پر غور کرتا ہوں تو مجھے اس زمانہ کے مخالفوں کی حالت پر بہت رحم آتا ہے کہ یہ اُن سے بھی جلد بازی اور شتاب کاری میں آگے بڑھے ہوئے ہیں۔وہ نوح علیہ السلام کی تبلیغ اور دعوت کو سُن کر اعتراض تو کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں فَتَرَبَّصُوْا بِہٖ حَتّٰی حِیْنٍ چندے اور انتظار کر لو۔مفتری ہلاک ہو جاتا ہے۔اس کا جھوٹ خود اس کا فیصلہ کر دے گا۔مگر یہ شتاب کار نادان اتنا بھی نہیں کہہ سکتے۔العجب۔ثم العجب (الحکم ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۔۷) ۴۹۔۔تَذْکِرَۃٌ: یاد رکھنے کے لائق۔یاد دِہ۔یہ بھی آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی صداقت کا ثبوت ہے کہ جو کلام آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے پیش کیا ہے۔وہ ایک متقی جماعت بناتا ہے اور ایک تاریخی قوم