حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 86

پھر بات بڑھی تو بارود وغیرہ میںبھی آگ ہی ہے۔پھر رسولوں کے اعداء کیلئے جہنم آگ ہی ہے۔حضرت موسیٰ کو ایک تجلّی ہوئی۔جس کا یہ معنٰی تھا کہ تم کو اور تمہاری قوم کو کچھ لڑائیاں پیش آئیں گی اور یہ قصّہ نبی کریمؐ کو سنایا کہ آپ کو بھی آگ (جنگ) سے واسطہ پڑے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) موسیٰ کے معنے جس سے ہمدردی کی جائے۔اسی واسطے اس کے ساتھ ہمدردی کرنے والے کو آسیہ کہا گیا ہے۔… امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو مخالفت و مقابلہ کا پیش آنا ضروری ہے اور تمام دنیا میں ایک جنگ ہے۔مچھلیوں کے حالات پڑھو۔پرندوں پر نظر کرو۔کس طرح ایک دوسرے کو شکار کرتے ہیں۔انسان کے پیٹ میں روٹی نہیں پہنچتی۔جب تک کئی جنگیں نہ ہو لیں۔حضرت موسیٰ کو آگ دکھائی گئی جس میں یہ اشارہ تھا کہ جنگوں کے بغیر کامیابی نہ ہو گی۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جو رحمۃٌ للّعالمین تھے۔جنہوں نے تیرہ برس تک بڑے ضبط و استقلال کے ساتھ صبر کیا۔ان کو بھی سنایا گیا کہ آپ کو جنگ کرنے پڑیں گے۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۴) ۱۳۔ : بعض لوگوں نے یہ مراد لی ہے کہ فرمایا کہ جوتی اتار دو۔اگر جوتی پاک بھی ہوتی ہے۔اس کا جواب دیاہے کہ گدھے کے چمڑے کی تھی۔یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔صوفیاء نے لکھا ہے کہ یہ حالت کشفی تھی۔نعلین سے بیوی اور بچّے مراد ہیں۔کہ اس وقت ہم سے ہم کلامی ہوتی ہے گویا فرمایا بیوی بچّے کا خیال چھوڑ کر بالکل ہماری طرف آ جاؤ۔چنانچہ اسی محاورے کے مطابق روحانی نفسانی تعلقات کے بارے میں ایک کتاب خلع النعلین لکھی گئی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) ۱۶۔