حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 85 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 85

اور مخلوق کی نسبت حکم ہے۔   (حٰم ٓ السجدۃ:۳۸) …سورۃ قصص کی اس آیت سے جس میں یہ قصّہ مندرج ہے۔صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ آواز جس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سنا تھا۔آگ سے نہیں آئی۔بلکہ ایک درخت کی طرف سے وہ آوا ز سنائی دی۔چنانچہ اس میں فرمایا ہے۔  (القصص:۳۱) …اگر ہم مان لیں حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے آگ سے آواز سُنی مگر یہ تو پھر بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم مکذّب کی طرح کہیں آواز دینے والی خود آگ ہی تھی… آگ کا غیر ناطق۔غیرمتکلّم جُز ہونا صاف گواہی دیتا ہے کہ وہ کلام آگ کا نہ تھا بلکہ کسی اَور کا کلام تھا… سنو۔ملہم کو جب الہٰی آواز کان میں پڑے گی تو ضرور ہے کہ اگر وہ ملہم کسی موجود مخلوق کے سامنے کھڑا ہے۔تو اُسی چیز سے یا ملہم کے قلب سے اس کو وہ آواز سنائی دے گی۔اس میں شبہ ہی کیا ہے ؟ مشاہدہ فطرت سے عیاں ہے۔پر دیکھنے والی آنکھیں بھی ہوں۔اگر ہم مان لیں کہ آگ سے وہ آواز سنائی دی۔پھر بھی وہ آواز آگ کی کیسے ہو سکتی ہے۔مثلاً ہم دیوار یا کسی جڑھ پدارتھ کے پاس ایسے جنگل میں جہاں کوئی بولنے والا نہ ہو۔کوئی کلام سُنیں۔تو کیا ہم یہ کہہ دیں گے کہ دیوار بول رہی ہے۔یہ یقینی امر ہے۔کہ جو آگ جناب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھی تھی وہ عنصری آگ نہ تھی۔بلکہ عالم مثال کی ایک کیفیت تھی اور جناب موسٰی علیہ السلام کی کشفی آنکھ نے اُسی نور الانوار کی زبردست تجلّی کو دیکھا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۵۱ تا۱۵۵)  : شریعت : اس آگ پر جو لوگ ہیں۔شاید وہ میری راہنمائی کریں۔جب ہم پُرانی تاریخ دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جب کبھی کسی کو مقابلہ کرنا منظور ہوتا۔تو وہ مہمانی کرتا اور اپنے دوستوں کو مدعو کر کے اپنے خطرے سے آگاہ کرتا۔دوسرا طریق یہ ہے کہ پہاڑیوں پر بہت سی آگ جلا دیتے ع میانِ دوکس جنگ چوں آتش است