حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 87
تحقیق وہ گھڑی آنے والی ہے۔قریب ہے۔میں اسے ظاہر کردوں۔تو کہہ ہر جی اپنے کئے کا بدلہ پائے۔یہ معنے بالکل صاف اور صحیح ہیں۔ان میں کسی قسم کا اخفا نہیں ہے۔اور نہ ان معنوں پر کچھ اعتراض ہو سکتا ہے۔اگر کوئی کہے کا مادہ ہے۔خفی ؔ اس کے معنے ظاہر کروں کیسے ہوئے تو اُسے زبانِ عرب میں غور کرنا چاہیئے۔حقیقت یہ ہے کہ خفی ؔکالفظ متضاد معانی رکھتا ہے۔اب خفی بمعنی ظاہر ہوا کا محاورہ سنو۔خَفِیَ الْبَرْقُ خَفْوًا و خُفْوًا اَیْ لَمَعَ یعنی خَفِیَ الْبَرْقُ کے معنے ہیں بجلی چمکی۔خَفِیَ الشَّیْئُ اَیْ ظَھَرَ یعنی چیز ظاہر ہوئی۔خَفِیَ الْمَطَرُ النَّافِقًا یعنی مینہ نے چوہے کے چھُپے بِل کو ظاہر کر دیا۔اگر خفی بمعنی چھُپاکے لیں۔تو بھی وہی ترجمہ جو میں نے کیا ہے صحیح ہے کیونکہ اُخفِیَ مزید علیہ مجرّد مادۂ خفی ؔکاہے۔اور اخفی ؔ افعال کا باب ہے جو کبھی سلب کے معنی دیتا ہے۔یعنی مادۂ مجرّد کے معنی کو دور کر دینا۔دیکھو اَشْکَیْتُ میں نے شکوہ دُور کیا۔اَشْکَلْتُ میں نے مشکل کو دور کیا۔طَاقَ یَطِیْقُ مُجَرْدًا بمعنی برداشت کرتا ہے۔اوراَطَاقَ یُطِیْقُ مَزِیْدًا بمعنی برداشت نہیں کرتا۔اسی طرح خَفَیِکے معنے ہیں۔چھپا۔اَخْفٰی ماضی کے معنی ہیں ظاہر کیا۔اوراُخْفِیَ مضارع کے معنی ہیں ظاہر کروں گا۔ایک اور دلیل جو نہایت صفائی سے اس ترجمے کے صحت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے کے معنے ہیں ’’ میں ارادہ کرتا ہوں‘‘ قرآن میں دوسری جگہ بھی یہ محاورہ موجود ہے (سیپارہ ۱۳۔سورہ یوسف:۷۷)یعنی ایسا ہی ہم نے یوسف کیلئے ارادہ کیا۔اور عرب کا محاورہ ہے لَا اَفْعَلُ وَ لَا اَکَادُ۔نہ میں کرتا ہوں اور نہ میرا ارادہ ہے پس کا ترجمہ ہوا۔میں ارادہ کرتا ہوں اُسے ظاہر کروں۔( فصل الخطاب (طبع ثانی) حصّہ اوّل صفحہ۱۴۲ نیز بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء) : ایک پادری نے اخفٰی کے معنے چھپانے کے لے کر ایک مولوی پراعتراض کیا ہوا تھا۔میں بھی وہاں پہنچا۔میں نے یہ ترجمہ کیا۔قریب وہ زمانہ ہے کہ اس کے خفاء کو ہم دور کر دیں۔خفی ؔکے معنی چھپنے کے ہیں اخفٰی کے معنے خفا دور کر نے کے ہیں۔(باب افعال سے جو بمعنے سلب آتا ہے) جیسا اَخْفَی الْبَرْقُ لَمْعًا۔حضرت موسیٰ کو جب علم حاصل ہوا کہ لڑائی ہو گی۔تو اس کی فکر پڑی۔خدا تعالیٰ اس میں کامیابی کی راہ بتاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) ۱۹۔