حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 84
کیا موسٰیؑ کی بات تجھے پہنچی۔جب اس نے آگ دیکھی۔پس اپنے اہل کو کہا۔ٹھہر جاؤ۔میں نے آگ دیکھی ہے تاکہ میں وہاں سے انگارے لے آؤں یا آگ پر کوئی راہ بتانے والا مجھے مل جاوے۔پس جب اس کے پاس آیا۔پکارا گیا۔اے موسٰی یقینا مَیں تیرا رب ہوں… اس آیت سے صاف واضح ہے کہ آگ خدا نہیں اور نہ آگ سے ندا آئی۔بلکہ نِدا کرنے والے نے تو یہ کہا کہ ـــ…(النمل:۹)یعنی آگ میں اور اس کے ارد گرد والے کو برکت دی گئی۔اور اﷲ تعالیٰ تو جہانوں کا اور ان سب اشیاء کا جن سے اسکا علم آتا ہے۔جن میں آگ بھی ایک ہے۔پالنے والا ہے… جناب موسیٰ علیہ السلام نے آگ سے باتیں نہیں کیں۔بلکہ اﷲ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا۔موسٰی علیہ السلام نے صرف اﷲ تعالیٰ کی آواز سُنی۔محیط الکل اﷲ تعالیٰ نے ہرگز آگ میں حلول نہیں فرمایا… اسی قصّہ میں دوسری جگہ فرمایا ہے۔ (القصص: ۳۰) میں نے آگ دیکھی ہے تاکہ میں تمہارے پاس اُس کی کوئی خبر لاؤں یا آگ کی کوئی چنگاری لاؤں تاکہ تم تاپو۔آیات کا منشاء صاف ظاہر ہے۔اصل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر جاتے راستہ میں رات کے وقت آگ دکھائی دی۔اور آگ کے دیکھنے کے بعد ان کو وہ خواہش پیدا ہوئی جو ہمیشہ سمجھدار اور عقل مند مسافروں کو پیدا ہوا کرتی ہے۔راستہ میں آگ جلانا پہاڑی ملکوں کا عام دستور ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس سفر میں رات کے وقت سردی کا موسم پیش آیا۔اس پر راستہ بھول گئے۔دُور سے آگ کو دیکھا۔اسے دیکھ کر ساتھ والوں کو فرمایا۔تم لوگ ٹھہرو۔میں تمہارے لئے آگ سُلگا لاتا ہوں۔تاکہ تم اسے سردی میں تاپو۔اور وہاں جا کر کسی سے راستہ کا پتہ بھی لوں گا… قرآن کریم میں صاف لکھا ہے آگ اﷲ تعالیٰ کی فرماں بردار اور اس کے حکم کے ماتحت ہے اور یہ بھی قرآن میں لکھا ہے کہ مخلوق کی عبادت جائز نہیں غور کرو۔(الانبیاء:۷۰)۔۔ (الواقعہ: ۷۲ تا۷۴)