حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 590
پیدا ہو جائے گا۔۵۔۔لوگوں کی دست اندازی کو روکا۔لڑائی نہ ہونے دی۔۶۔صراطِ مستقیم کی ہدایت فرمائی۔() ۷۔پھر اسی صبر و اطاعت کی وجہ سے ((الفتح:۲۲) اور انعامات کئے جن کا ان حالات میں وہ اندازہ نہ لگا سکتے تھے۔وہی شرائط جو اس وقت نقصان دہ اور موجبِ ہتک معلوم ہوتی تھیں۔اس عظیم الشان فتح کا موجب ہو گئیں۔جو مسلمان مرتد ہوتا وہ تو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان کی جماعت کے کام کا نہ تھا۔اس کے جانے سے انہیں کیا نقصان اور جو مشرکین میں سے مسلمان ہوتا وہ مکّہ میں رہتا۔تو دوسروں کی ہدایت کا موجب بنتا۔پھر یہ فائدہ ہوا۔کہ ابوبصیرؔ مسلمان ہو کر مدینہ بھاگ آیا۔دو آدمی مکّہ سے اس کو پکڑنے کیلئے روانہ ہوئے۔جب حضور رسالتِ مآب میں پہنچے توآپؐ نے حکم دیا کہ ابوالبصیر واپس چلا جائے اس نے بہتیرے عذر کئے مگر آپؐ نے فرمایا۔ہم معاہدہ کے خلاف نہیں کریں گے۔راستے میں اس نے اپنے محافظ مشرکوں میں سے ایک کی تلوار لے کر ایک کو مار دیا۔دوسرا پھر فریاد کرتا ہوا آیا۔ابوبصیر بھی پہنچ گیا۔آپؐ نے اسے کہا۔تو لڑائی کرانا چاہتا ہے میں تجھے واپس بھجوا دوں گا۔یہ سن کر وہ وہاں سے بھاگ گیا اور ایک جگہ پر ڈیرہ بنا لیا۔اب جو مسلمان ہوتا مکّہ سے بھاگ کر ان کے پاس آ جاتا اور رفتہ رفتہ ان کی ایک جماعت بن گئی۔چونکہ وہ مکّہ والوں کے نکالے ہوئے تھے اس لئے انہوں نے اپنے اخراجات خوراک وغیرہ کیلئے مکّہ ہی کے قافلوں سے اپنا حصّہ لینا شروع کیا۔اس طرح پر یہ شرط ان مشرکین کیلئے موجبِ ضرر ہوئی۔اور وہ نبی کریمؐ کی خدمت میں آئے کہ آپؐ اپنے آدمیوں کو بلوا لیجئے۔ہم اس شرط کو توڑتے ہیں۔دومؔ۔ان فہرستوں کے لکھوانے کا فائدہ یہ ہوا۔کہ خزاعہؔ پر جو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حمایت میں تھے۔بنوؔبکر وائل نے حملہ کیا اور مشرکین نے ان کا خفیہ خفیہ ساتھ دیا۔خزاعہ میں سے دو آدمی نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور فریاد لے کر حاضر ہوئے۔ادھر مکّہ والوں نے بھی اپنا ایک سردار بھیج دیا۔کہ معاہدہ نئے سرے سے ہو۔کیونکہ میں اس وقت موجود نہ تھا۔اس طرح پر وہ معاہدہ آپ ہی انہوں نے اپنے عمل اور اپنے قول سے توڑ دیا۔اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے دس ہزار قدّوسیوں کے ساتھ مکّہ پر چڑھائی کی اور اس طرح پر خدا کا کلام اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا پورا ہوا۔اور اسی فتح کے ذریعے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی زندگی ہر قسم کے عیبوں اور ان الزاموں سے پاک ہے۔جو آپ کی ذات سے منسوب کئے جاتے تھے لِیَغْفِرَﷲُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَ مَا تُاَخَّرَکے یہی معنے ہیں کہ تیری ذات پر جو الزام یہ مکہ کی ہجرت سے پہلے یا پیچھے لگاتے تھے۔وہ سب دور ہو جائیں۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ ان مشرکین نے جو تیرے گناہ اس