حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 494
یک جگہ فرمایا ہے۔مِنْ تُرَابٍ۔(آل عمران:۶۰)یعنی مٹی سے بنایا۔اور ایک جگہ فرمایا ہے۔مِنْ مآئٍ(فرقان:۵۵) تم کو پانی سے بنایا۔اس لئے مٹی اور پانی مل کر کیچڑ ہی ہوئے۔حضرت مسیحؑ بھی فرماتے ہیں کہ میں طین سے تجویز کرتا ہوں۔اگر تم میں کوئی طائر کی صفت ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۵) ۷۳۔ : جب اپنے کمال کو پہنچ جاؤ۔جس قدر پاک روحیں ہوتی ہیں۔سب فرماں بردار ہوتی ہیں۔جس طرح وہ طین سے بنا۔اسی طرح شیطان آگ سے بنا۔سانپ اور طاعون کے کیڑے کو شیطان ؔ اور جنؔ۔اسی وجہ سے کہا گیا۔ایک وقت آتا ہے کہ انسان نیکی کرتا کرتا ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔کہ خدا تعالیٰ خود اس کا کفیل ہو جاتا ہے۔پھر انسان بدی کرتے کرتے ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ خدا اس کی ہدایت سے ہاتھ کھینچتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۶) ۸۲۔ قیامت تک نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۸۷۔ نبی کے ہر ایک قول و فعل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بناوٹ اس میں بالکل نہیں۔اس کی کوئی بات بناوٹ سے نہیں ہوتی۔اور نہ اس کا کوئی فعل تکلّف سے ہوتا ہے اور نہ وہ خلقت کو نصیحت دنیوی فائدہ اٹھانے کی امید یا نیت پر کرتے ہیں۔بلکہ وہ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا اجر اﷲ پر ہے۔چنانچہ سیّد نا ومولانا حضرت خاتم النبیین صلی اﷲ علیہ وسلم کو قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو سنادے۔۔اسی معیارپر حضرت مسیح موعود