حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 495
علیہ السلام کی صداقت کا ثبوت ملتا ہے۔آپ اپنے بارے میں لکھتے ہیں۔ابتداء سے گوشۂ خلوت رہا مجھ کو پسند شہرتوںسے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار اور آپ میں تکلّف اور بناوٹ نام کو نہ تھی۔اس کی شہادت ہزاروں آدمی دے سکتے ہیں۔نہ تقریر میں کوئی بناوٹ تھی نہ تحریر میں۔نہ لباس میں۔اور(ھود:۳۰) پر جو عمل فرمایا وہ تو اب بھی ظاہر ہے کیونکہ خاص اپنے لئے باوجود اس قدر روپے کے آنے کے کوئی جائیداد نہیں خریدی اور نہ کوئی نفع اپنی ذات کے لئے مخصوص کیا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی عَبْدِکَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ (تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۹ ماہ فروری ۱۹۱۲ء)