حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 493
میں نظارہ ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۵۹۔ اور کچھ اور اسی شکل کا۔طرح طرح کی چیزیں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۳۵) ۷۰۔ کسی نبی۔کسی مامور کے دل میں یہ خواہش پنہاں نہیں ہوتی کہ میں لوگوں کا حاکم بنوں اور بڑا آدمی کہلاؤں۔وہ مخلوق سے کنارہ کش اور گوشہ نشین ہوتے ہیں۔پھر خدا تعالیٰ انہیں اپنے حکم سے نکالتا ہے تو وہ مجبور ہو کر پبلک میں آتے ہیں۔حضرت موسٰیؑ کو دیکھو کہ آپ کے دل میں ہرگز یہ بات نہ تھی کہ میں قوم کا امام بن جاؤں۔چنانچہ ارشاد ہونے پر عذرو معذرت کرتے اور اپنے بھائی کو(القصص:۳۵) سے پیش کرتے ہیں۔اسی طرح نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔۔مجھے کیا علم تھا کہ ملائِ اَعلیٰ میں میری نبوّت کی نسبت کیا مباحثات ہو رہے ہیں جیسا کہ ہر مامور کی بعثت پر آسمانوں میں بڑی بحث ہوتی ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۸ ماہ فروری ۱۹۱۲ء) : انبیاء کے دل میں ذرا بھربھی خواہش نہیں ہوتی کہ ہم نبی بنیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍نومبر ۱۹۱۰) ۷۲۔ : ہر ایک روحانی آدمی کے متعلق یہ ذکر ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) : کیچڑ پانی اور مٹی ملی ہوتی ہے۔طین میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ اس کو جس سانچہ میں ڈھالنا چاہیںڈھل جاتی ہے۔اور ہر شکل کو قبول کر لیتی ہے۔جو آدم کا بچہ ہے وہ توطین سے بنا ہوا ہوتا ہے۔