حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 40 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 40

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے فلاں حصّہ یا پہاڑ کی فلانی چوٹی کے پیچھے یا ناظر کے افق کے فلاں درخت کے پیچھے۔یا ہمارے مغرب میں پانی اور دلدل ہو جیسے ذوالقرنین کو موقع ملا تو ہم کو مغرب کے وقت سورج اس پانی اور دلدل میں غروب ہوتا ہوا معلوم دے گا۔( ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات صفحہ ۵۸۔۵۹) کسی خاص ملک کی مشرق اور مغرب پر سورج کا نکلنا اور ڈوبنا بتا دینا مقدّس کتبِ عتیق و جدید کا خاص محاورہ ہے جسے دانیال کی کتاب ۴ باب ۲۲ میں اور ذکریا ۸ باب ۷ میں لکھا ہے۔نبوکد تیری سلطنت زمین کی انتہاء تک پہنچے اور میں اپنے لوگوں کو سورج کے نکلنے کے ملک اور اس کے غروب ہونے کے ملک سے چھُڑا لاؤں گا… دیکھو زکریا کی الہامی کتاب میں صاف لکھا ہے۔سورج کے نکلنے اور غروب ہونے کے ملک سے اور قرآن میں اعلیٰ درجے کی راستی سے کہا ہے ذوالقرنین کو ایسا معلوم ہوا کہ سورج دلدل میں ڈوبتا ہے۔جہاںں فرمایا ہے  (فصل الخطاب طبع ثانی حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۳، ۱۷۴)  ہم نے کہا اے ذوالقرنین تُو دو طرح کا برتاؤ کر یا سزا دے اور خسرانہ رحم کر یعنی سزا کے لائقوں کو سزا اور رحم کے لائقوں پر رحم کر۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۷) ۸۸،۸۹۔  اس نے کہا ظالموں کو ہم سزا دیںگے پھر اپنے رب کے ہاںجا کر ان پر سخت عذاب ہو گا پر مومن اور نیکوکار کیلئے نیک بدلہ ہے اور ہم بھی اس سے حسنِ سلوک سے پیش آویں گے۔تفسیر: غرض ماد اور فارس کی سلطنت جب بلاد شام پر فتح یاب ہوئی تو اس کے بادشاہ نے حسبِ وحی الہٰی اور الہامِ خداوندی بُروں کو سزا اور نیکوں کو انعام دئے۔اگر کسی کو یہود اور عیسائیوں