حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 39 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 39

یہاں تک کہ جب وہ پچھّم میںپہنچا۔اُسے ایسا معلوم ہوا کہ سورج دلدل کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔تفسیر: یہ بادشاہ جو دانیال کے خواب میں دو سینگ کا مینڈھا دکھائی دیا اور فارس اور ماد کا حکمران ہوا۔اس کا نام خورس ہے۔جب وہ بلادِشام اور شمالی مغرب کو فتح کر چکا تو بلیک سِی یا بحر اسود کا دوسرا سمندر اور اسکا کالا دلدل آگے آ گیا۔اتنے بڑے سمندر کا کنارہ کیقباد کو کہاں نظر آ سکتا تھا۔وہاں اسے سورج سمندر میں ڈوبتا دکھائی دیا۔قرآن یہ نہیں فرماتا کہ فی الواقع سورج کالے پانی میں ڈوبتا تھا۔بلکہ کہتا ہے کہ ’’ اس نے یعنی ذوالقرنین نے سورج کو کالے ـپانی میں ڈوبتا پایا‘‘لفظ ُ پر غور کیجئے جس کے معنے ہیں’’پایا اس نے اس کو کہ ڈوبتا ہے اور یہ نہیں کہا وَکَانَ ھُنَاکَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ کہ وہاں واقعی سورج ڈوبتا تھا۔یہ ایسا نظارہ ہے جسے ہر ایک بحری سفر کرنے والے کی آنکھ نے دیکھا ہے کہ وسیع اور اتھاہ سمندر میں سورج اسی میں سے نکلتااور اُسی میں پھر ڈوبتا دکھائی دیتا ہے۔اس قدرتی منظر کو جو ذوالقرنین کے پیشِ نظر واقع ہوا قدرت کی صحیح نقل یعنی قرآن نے بیان کیا۔کورس یا خورس کا تسلّط پچھّم زمین پر ہوا۔اوّل تو دانیال ۸ باب ۴ میں ہے ’’ میں نے اس مینڈھے کو دیکھا کہ پچھّم اتر دکن کو سینگ مارتا ہے ‘‘ دومؔ تواریخِ ایران پر نظر ڈالو۔اس واقعہ کے مفصّل حالات اس میں ملیں گے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۶) ایک عیسائی کا سوال:۔اگر محمدؐ پیغمبر ہوتے تو’’ یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے۔یا غر ق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نو کروڑ حصّے بڑا ہے۔وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔‘‘ جواب میں تحریر فرمایا:۔تمام قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ سورج چشمۂ دلدل میں چھُپتا ہے یا غرق ہوتا ہے۔پادریوں کو مدّت سے یہ دھوکا لگا ہے کہ قرآن میں ایسا لکھا ہے حالانکہ قرآن میں نہیں لکھا۔بات یہ ہے کہ اس ذوالقرنین کا قصّہ جس کا ذکر دانیال نبی کی کتاب ۸ باب ۴ میں ہے۔قرآن کریم نے ایک جگہ بیان فرمایا ہے اور اس میں کہا ہے جب وہ ماداور فارس کا بادشاہ اپنی فتوحات کرتا ہوا بلادِ شام کے مغرب کو پہنچا تو اس خاص زمین کے مغرب میںایک جگہ ’’سورج دلدل میں ڈوبتا‘‘ ذوالقرنین کو معلوم ہوا غالباً جب ذوالقرنین بلیک سِی (بحیرہ اسود)یا ڈینیوب کے کنارے پہنچا تو اس وقت ذوالقرنین کو اس نظارہ کا موقع ملا۔ہم نے مانا کہ سورج زمین سے بہت بڑا ہے۔لاکن چونکہ ہم سے بہت ہی دور ہے۔اس واسطے ہم کو چھوٹا سا دکھائی دیتا ہے اور زمین چونکہ کُروی الشکل ہے اس واسطے غروب کے وقت ہم کو