حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 41

جو قصّے کے مخاطب ہیں۔اس کی نیکی اور بزرگی بلکہ ملہم ہونے میں کلام ہو تو وہ عزرا کی کتاب دیکھے ’’ شاہ فارس خورس یُوں فرماتا ہے کہ خداوند آسماںخدا نے زمین کی سب مملکتیں مجھے بخشیں اور مجھے حکم کیا ہے ‘‘ عزرا کی کتاب باب ۱۔۲ اس سے یہ ظاہر ہے کہ حسبِ کتبِ مقدّسہ وہ حکمِ الہٰی کا پابند اور مملکتوں کا بادشاہ تھا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۶۷) ۹۰ تا ۹۲۔   ٓ: مشرقی حدود۔سلطنت بلوچستان (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل، ۵؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲) پھر وہ ساز و سامان کر کے روانہ ہوا۔جب پُورب میں پہنچا وہاں سورج کے تلے ایسے لوگ پائے جن پر سورج کے سوا کسی چھت کا سایہ نہ تھا۔ایسا ہی تھا اور ذوالقرنین کے لاؤ لشکر کا حال ہم کو خوب معلوم ہے۔جب خورس بلوچستان میں پہنچا تو وہاں کے لوگ بے خانماں پائے۔جن کی چھت آسمان اور بستر زمین پر تھا۔یہ لوگ جب بالکل خانہ بدوش جنگلی تھے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۶۷) ْ: مکان نہیں بناتے تھے کہ دھوپ سے بچ سکیں۔پکھّی و اس لوگ تھے کیقباد ایک شخص گزرا ہے۔اس کی سرحد میں بلوچستان تھا۔یہاں اس نے غالباً عمارتوں کا خیال کیا ہے ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ سابئیر یا تک پہنچ گیا تھا۔جہاں لوگ غاروں میں رہتے تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء) ۹۳،۹۴۔