حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 376

سُوْرَۃُالسَّجْدَۃِ مَکِّیَّۃٌ  ’’حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم جمعہ کے دن نمازِ فجر کی پہلی رکعت میں یہ سورۃ شریفہ ہمیشہ نہیں تو اکثر ضرور پڑھا کرتے تھے۔اس سورۃ شریفہ میں اﷲ تعالیٰ کی عظمت۔نبوت کی صداقت اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پاک عادات اور دنیا کے تغیّرت کا بیان ہے‘‘ ( بدر۷ ستمبر ۵ـ۱۹۰ صفحہ ۳) ۲،۳۔ : انا اﷲ اعلم میں اﷲ جاننے والا ہوں۔جن سورتوں کے شروع میں یہ الفاظ آئے ہیں۔وہاں ساتھ ہی اﷲ تعالیٰ کی کتاب کا خصوصیّت کے ساتھ ذکر آیا ہے۔مثلاً۔(بقرہ:۲،۳)(لقمان:۲،۳) ۔(السّجدہ:۲،۳) حروفِ مقطعات۔قرآنِ شریف میں کئی سورتوں کے شروع میں اس قسم کے حروف ہیں جیسے کہ اس سورۃ کے ابتدء میں حروفہیں۔ان کو حروفِ مقطعات کہتے ہیں۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حروفِ مقطعات کے معانی تلاش کرنا گناہ ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں۔مگر ایسا کہنا قرآن شریف کی بے ادبی کرنا ہے۔قرآن شریف میں تدبّر کرنا فرض ہے۔صحابہ کرامؓ میں سے حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے ان حروف کو اجزاء اسمائے الہٰی مانا ہے۔میں نے بہت محنت کے ساتھ ایسی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے جس میں ان کا ذکر ہے۔اور صحابہ کرامؓ کے مقدّس گروہ کا اجماع مجھے اسی پر دکھائی دیا ہے۔کہ حروف اجزائے اسماء الہٰی ہیں اور اسی واسطے سورتوں کے نام ہیں۔آجکل کے جنٹلمین تو اس طریق پر اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔کیونکہ ان میں عمومًا قابلِ عزّت وہی ہے