حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 377
جس کے نام کے ساتھ کوئی بی۔اے یا ایم۔اے یا ایم۔بی یا ایل۔ایل۔بی غرض دو یا تین حروف لگے ہوئے ہیں اور بعض بڑے معززین کے ناموں کے ساتھ اس قدر حروف ہوتے ہیں کہ ساری حروف تہجّی وہاں ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ویدوں میں بھی سب سے پہلے اَومؔ ہی آتا ہے۔مگر افسوس ہے کہ باوجود اس کو حروفِ مقطعات ماننے کے وہ لوگ اس کے معنے کے واسطے کوئی سند نہیں رکھتے۔( بدر ۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳) : مقطعاتِ قرآنی کے معنے اس زمانہ میں خوب کُھلے ہیں۔انگریزی میں تو آجکل ایسے حروف بہت آتے ہیں۔بعض لوگوں کے ساتھ تو تقریباً تمام حروفِ تہجی ہوتے ہیں۔: ریب کے معنے ہلاکت کے بھی ہیں۔جیسے(طور:۳۱) میں اور شک کے بھی۔قرآن شریف میں جوراہیں بتائی گئی ہیں۔وہ نہ تو ہلاکت کی ہیں۔نہ ان میں کسی قسم کا شک ہے۔پس شک مت کرو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۲) ۴۔ : نہیں آیا ان کے پاس کوئی ڈرانے والا۔عرب کے لوگ مامور من اﷲ اور مکالمہ الہٰی سے بالکل ناواقف تھے۔جیسا کہ ہمارے زمانہ کے لوگ ناواقف ہیں جو قوم اس وقت عرب میں موجود تھی ان میں یا ان میں سے پہلے قریب دنوں میں ان کے درمیان کوئی ایسا نبی نہ گزرا تھا۔جس سے ان کو معلوم ہوتا کہ نذیر کس طرح ہوا کرتے ہیں۔یہ پہلا موقعہ تھا کہ ان کو ایک نذیر نظر آیا۔(بدر ۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۳) : تمام دواوین۔کتبِ ادبیہ۔حدیث فقہاء کے کلام سے قرآن کی شان الگ ہے جس سے ظاہر ہے کہ وہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۴ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۵۔