حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 362
(بقرہ:۶۷) (بدر ۲۴؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳) : ایسا ستون نہیں جو تم دیکھ سکو۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۳ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۱۳۔ اَلْحِکْمَۃَ: نہایت مضبوط بات جس کا انجام بخیر ہو۔جمّوں میں ایک شخص تھا جس نے علموں کی تعریفیں یاد کر رکھی تھیں۔اکثر اہل علم کا اس ذریعہ سے امتحان کر کے ان کو برسرِ محفل نادم کیا کرتا ایک دن مجھ سے بھی سوال کیا۔کہ حکمت کی جامع مانع تعریف کیا ہے۔میں نے سورہ بنی اسرائیل کا رکوع ۴ کا ترجمہ سنا دیا۔اس کے اخیر میں ہے۔ (بنی اسرائیل :۴۰) سُن کر دم بخود رہ گیا۔: شکر کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔فرمایا(ابراہیم:۸) تم شکر کرو گے تو قسم ہے ہمیں اپنی ذات کی کہ ہم ضرور بڑھ چڑھ کر دیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ صفحہ ۲۰۱) : یہ لفظ ان الفاظ میں سے ہے جن کے معانی عام استعمال میں ٹھیک نہیں لئے گئے۔آجکل کے محاورہ میں حکمت طبابت کو کہتے ہیں۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے لقمان کو حکمت دی اور اس حِکمت کی ابتداء یہ ہے کہ ۔اﷲ کا شکر گزار ہو۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ان آیاتِ کریمہ پر غور فرمایئے اور داد دیجئے۔نہ صرف داد بلکہ قبول فرمایئے۔میں آپ کو حق کی طرف بلاتا ہوں اور بے انصافی کے سخت وبال سے آگاہ کرتا ہوں۔دیکھو۔مرنا ہے۔اور بھلائی اور برائی کا نتیجہ پانا ہے۔کیا یہ دور ازقیاس ہے۔انصاف سے کہیئے۔بلکہ یہ قصّہ تمام بھلائیوں کا مجموعی عطر ہے۔ہاں بُت پرست ناشائستہ کج خُلق آدمی اس کو دور ازقیاس کہے تو ممکن ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ۶۴)