حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 363

۱۴۔  ہم نے لقمان کو حکمت ( اپنی پہچان) دی کہ تو اﷲ کا شکر گزار ہو اس لئے کہ جو شکر گزار ہوا اس میں اسکا اپنا فائدہ ہے۔اور جس نے کفرانِ نعمت کیا وہ جان لے کہ اﷲ غنی ہے تعریف کیا گیا۔اور جب لقمان نے وعظ کرتے ہوئے اپنے بیٹے سے کہا۔اے پیارے بیٹے اﷲ سے شرک مت کر کیونکہ شرک بڑا بھاری ظلم ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۶۳) حضرت لقمان کی نصیحت بیٹے کیلئے جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں درج فرمایا ہے۔تاکہ لوگ اس پر عمل کریں۔اس میں دس احکام ہیں۔۱۔شرک سے مجتنب رہو۔۲۔والدین سے حسنِ سلوک کرو۔سوائے حُکمِ شرک کے ان کے سب حکم مانو۔۳۔علمِ الہٰی پر ایمان رکھو کہ وہ تمہاری ہر حرکت سے واقف ہے۔۴۔نماز قائم رکھو۔۵۔بھلی بات کا حکم دو۔۶۔بُری باتوں سے منع کر تے رہو۔۷۔لوگوں کے ساتھ تکبّر سے پیش نہ آؤ۔۸۔زمین پراکڑ کر نہ چلو۔۹۔ہر ایک معاملہ میں میانہ روی اختیار کرو۔۱۰۔اپنی آواز کو دھیما رکھو۔اس میں دوسرا حکم والدین کے ساتھ سلوک کرنے کا اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بہت ہی تاکیدی ہے اور شرک سے اجتناب کے بعد سب سے زیادہ ضروری حکم یہی ہے۔اس واسطے اﷲ تعالیٰ نے اس وصیت نامہ میں اس حکم کو خاص اپنی طرف منسوب کیا ہے اور اس کے دلائل بیان کئے اور دوسرے احکام کی نسبت اس کی زیادہ تفصیل کی ہے۔چونکہ یہ وصیت نامہ حضرت لقمان کا صرف اپنے بیٹے کیلئے تھا اور بیٹا ہی اس وقت مخاطب تھا اس واسطے ممکن ہے کہ حضرت لقمان نے ان حقوق کا ذکر چھوڑ دیا ہو جو خود انہیں کے متعلق تھے۔اور پسند نہ کیا ہو کہ اپنے بیٹے کو یہ کہیں کہ تُو میری ایسی اطاعت کر اور ایسی خدمت کر لیکن اﷲ تعالیٰ نے جب یہ وصیت تمام دنیا کی ہدایت کے واسطے اپنی پاک کتاب میں درج فرمائی تو یہ ضروری حکم بھی اس کے اندر درج فرمایا۔: تحقیق شرک بڑا ظلم ہے! کسی ادنیٰ کو اعلیٰ خطاب دینا اعلیٰ کو ادنیٰ خطاب دینا۔پیادے کو بادشاہ کہنا اور بادشاہ کو پیادہ کہنا ایک ظلم ہے باوجودیکہ پیادہ اور بادشاہ ہر دو انسان ہیں اور ایک جیسا جسم رکھتے ہیں اور ممکن ہے کہ کبھی بادشاہ پیادہ بن جائے