حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 361
رُستم و اسفند یار کے قصّے سناؤں۔جو بڑے لمبے اور بہت عجائب ہیں۔اس زمانہ کے اکثر ناول نویس اور قصّہ خواں اس نضر بن حارث کے روحانی شاگرد ہیں جو بیہودہ قصّوں میں لوگوں کو مصروف کر کے حکمت کی سنجیدہ باتوں سے دور ڈال دیتے ہیں۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۸۔ : کھول کر خبر دو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۵؍اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۰۰) ۱۱۔ : مَید چکّر کو کہتے ہیں۔پس اس کے معنے ہوئے کہ زمین پر پہاڑ بھی گردشِ روزانہ اور سالیانہ میں تمہارے ساتھ چکّر کھاتے ہیں۔۲۔مید۔غذا کو کہتے ہیں۔جس صورت میں یہ معنے ہوئے ہیں کہ زمین پر پہاڑی علاقے اس واسطے بنائے کہ تم کو غذا پہنچائیں۔چنانچہ دریا بھی پہاڑوں سے ہی نکلتے ہیں اور پہاڑوں پر اکثر درخت اور میوے ہوتے ہیں۔اور کنوؤں کا پانی بھی انہیں کی فروعات ہیں۔۳۔مَیْد پیس ڈالنے کو کہتے ہیں جس سے ہندی لفظ میدہؔنکلا ہے اس صورت میں یہ معنے ہوئے کہ زمین پر پہاڑ اس واسطے رکھے گئے ہیں کہ جب زمین نافرمانوں سے بھر جائے اور مرسلین الہیٰ کا انکار کیا جائے تو پہاڑ اپنی آتش فشانی اور زلازل کے ساتھ بعض باغیوں کو پیس ڈالیں۔جیسا کہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے۔تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔اسی واسطے یہود کی مغضوبیّت کو فرمایا۔