حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 301
: سب سے بھاری اختلاف مسیحؑ کی آمد کے متعلق تھا۔اس زمانہ میں بھی یہی اختلاف ہے۔قرآن شریف نے اسے صاف کر دیا ہے۔دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ نبوّت و الہام بنی اسرائیل میں محدود ہے۔اس زمانہ میں بھی کہتے ہیں۔کہ سوائے بنی فاطمہ کے کسی میں مہدی نہیں آ سکتا۔لیکن جیسے بنی اسحاق کی بجائے بنی اسمٰعیل میں نبی آیا ایسے ہی اس زمانہ میں بھی امام آیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۹۱) محمد رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی نبوّت میں یہود اور نصاریٰ کو کہا تھا کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے الہامی کتابوں کا مفسّر بنایا اور جو کچھ اگلی اُمّتوں نے الہامی کتابوں کے فہم میں غلطی کی اور غلطی سے ضروری مسائل میں باہم اختلاف کیا یا حق کے مخالف ہو گئے۔اس اختلاف کے مٹانے کو اﷲ تعالیٰ نے مجھے رسول کیا ہے۔ضرورتِ نبوّت کے اور وجوہ بھی ہیں جو ہم نے اسی کتاب ۱؎ میں کچھ ان میں سے لکھے۔مگر یہ بھی ضرورت تھی۔قرآن میں میرے اس قول کی تصدیق یہ ہے۔۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل ایڈیشن دوم صفحہ ۱۷۱۔۱۷۲نیز ۱۰۳،۱۷۴) ۸۱۔ : یہاں سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے۔کہ مُردے نہیں سُنتے۔یہ صحیح نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اگست ۱۹۱۰ء صفحہ۱۹۰۔۱۹۱) ۱؎ فصل الخطاب۔مرتّب ۸۳۔