حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 59
: شرک کے معنی ہیں کسی کے ساتھ سانجھی کرنا۔اﷲکی ذات۔اﷲ کی صفات۔اﷲ کے افعال کا کسی کو ہمتا بنانا۔اﷲ کی عبادت جس طرح کی جاتی ہے۔اسی طرح کسی دوسرے کی عبادت و تعظیم کرنا۔ایسی کوئی قوم پیدا نہیں ہوئی جس نے خدا کی ذات جیسی کوئی ذات مانی ہو۔اسی لئے انبیاء علیھم السلام نے خدا کی ذات کی توحید کا بیان کم فرمایا ہے۔صرف ایک قوم ہے جو ثنویہ کہلاتی ہے۔وہ یزدان واہر من مانتے ہیں۔صفاتِ الہٰی میں بھی لوگوں نے شِرک بہت کم کیا ہے۔خدا کے افعال میں بھی لوگوں نے شرک کم کیا ہے۔مُشرک بھی مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کو خدا نے پیدا کیا ہے۔ہاں چوتھی قسم کا شرک شرک فی العبادت ہے۔کُل انبیاء اسی شرک کے دُور کرنے کیلئے آئے ہیں۔بُتوں سے مُشرک حاجات مانگتے ہیں۔ان کے آگے سجدہ کرتے (ہیں)۔: میں کے معنی ہیں کہ اس سے نیچے اتر کر جو گناہ ہیں وہ معاف کر دیتا ہے۔کیونکہ خدا کا انکار شرک سے بھی بڑھ کر گناہ ہے۔پس مَادُوْنَ کا ترجمہ سوائے پسندیدہ نہیں۔(ضمیمہ اخبار بدرؔ قادیان ۲۹؍ جولائی ۱۹۰۹ء) : اﷲ کی ذات جیسی ذات۔صفات جیسی صفات۔افعال جیسے افعال مانے جائیں عبادت کے طریق میں جو انبیاء نے بتائے کسی کو شریک کرے۔ایک شرک فی العبادت ہے۔(تشحیذالاذہان ستمبر ۱۹۱۳ء جلد۸ نمبر ۹ صفحہ ۴۴۹) شِرک وہ بُری چیز ہے کہ اسکی نسبت خدا نے فرما دیا ہے پھر بھی مسلمان اسکے معنے نہ سمجھیں تو افسوس ہے۔سب سے پہلا کا م جو انسان کے کان میں بوقتِ پیدائش و بلوغ ڈالا جاتا ہے وہ شرک کی تردید میں لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُاﷲہے۔یہ ایک بحث ہے کہ کان بہتر ہیں یا آنکھیں۔مولُود کے کان میں اذان کہنے کی سنّت سے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔اگر یہ لغو فِعل ہوتا تو کبھی رسولؐ کی سنّتِ مؤکدہ نہ بنتا۔یقظہ نومی جو بیماری ہے اسکے عجائبات سے بھی اسکی حکمتیں معلوم ہو سکتی ہیں۔غرض پہلا حکم کانوں کیلئے نازل ہوا اور انبیاء بھی اس لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ کی اشاعت کیلئے آئے اور خدا کی آخری کتاب نے بھی اسی کلمہ کی اشاعت کی اور جس کتاب سے مَیں نے دینی اُمور کی طرف خصوصیت سے توجہ کی اس میں بھی اس پر زیادہ بحث ہے۔چونکہ بعض لوگ حکیموں کی بات کو بہت پسند کرتے ہیں اور انکے کلمہ کا انکی طبیعت پر خاص اثر ہوتا ہے اس لئے یہاں ایک حکیم کی نصیحت کو بیان کیا ہے اور یہ بھی مسلّم کہ آدمی اپنی اولاد کو وہی بات بتاتا ہے جو بہت