حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 540 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 540

  : یہ ایک آیت ہے۔جس پر لوگوں کو شُبہ ہوا ہے سر سیّد احمد خان صاحب نے بھی ٹھو کر کھائی ہے اور معجزوں سے انکار کیا ہے۔میرے سامنے اس کے صحیح معنے یہ ہیں۔کسی چیز نے ہمیں آیات کے بھیجنے سے نہیں روکا۔اور کیا پہلوں کی تکذیب ہمیں روکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔چنانچہ دیکھو۔ثمود کیلئے اونٹنی بطور نشانی بنائی۔جب انہوں نے اس پر ظلم کیا۔تو خمیازہ اٹھایا اسی سورۃ کے رکوع دس میں اخیر پر (بنی اسرائیل:۹۵) کس چیز نے روکا ہے لوگوں کو ایمان سے۔مگر اس نے کہ یہ بشر رسول ہے۔یہ تو ایسی چیز نہیں۔پھر یہ معنے ہیں کہ  میںاَلْ کیسا ہے؟استغراق کا! تو مطلب یہ ہوا کہ کل آیات کے بھیجنے سے تو تکذیب روکتی ہے مگر بعض سے تو نہیں روکتی۔اگر بعض آیات مراد ہیں تو باقی بعض کے بھیجنے سے تکذیب النّاس نہیں روکے گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) : اور نہ اس بات سے منع کیا کہ پہلوں نے جھٹلایا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۳۶۳) اَلْاَیٰتِ: عربی لفظ ہے دو کلموں سے بنا ہے ایک اَلْ اور دوسرا آیات سے جو آیت کی جمع ہے۔اَلْ کے معنے عربی میں کبھی خاص کے آتے ہیں اور کبھی کُل کے معنے دیتا ہے۔اگر لفظ اَلْ کے خاص معنے کئے جاویں تو آیت کا مطلب اور معنے یہ ہوں گے ’’ ہمیں ان خاص نشانیوں کے بھیجنے سے (جنہیں مُنکر لوگ طلب کرتے ہیں) کوئی امر مانع نہیں ہوا۔مگر یہ کہ ان نشانیوں کو اگلوں نے جھٹلایا۔اس کے بعد کی آیت بھی ان معنوں کی تاکید کرتی ہے۔جس کا ثبوت ہے۔ثمود کی قوم نے ایک نشان مانگا۔پھر انہوں نے تکذیب کی اور اس نشان پر ظلم کیا۔اس قسم کے نشانات کی نفی صرف آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ہی کے وقت نہیں ہوئی۔بلکہ غور کرو مرقس۸باب ۱۱۔فریسیوں نے مسیحؑ سے نشانات طلب کئے۔اُس نے آہ کھینچ کر کہا۔اس زمانے کے لوگ کیوں نشان چاہتے ہیں۔میں تم سے سچ کہتا ہوں۔اس زمانے کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جاوے گا۔اور جس نشان دکھانے کا وعدہ ہوتا ہے وہ بھی اب تک ظلمت میں ہے۔اور لوقا ۲۳ باب ۸ میں ہے۔ہیروڈیس کو بڑی خواہش تھی کچھ مسیحی معجزے دیکھے۔باوجود اصرار مسیحؑ اس کے سامنے بولے بھی نہیں آخر اس نے ناچیز ٹھہرایا۔