حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 541 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 541

غور کیجئے۔ذرا انصاف سے سنئے۔انجیل میں لکھا ہے۔اگر کسی میں رائی برابر ایمان ہو تو پہاڑوں کو کہے یہاں سے وہاں چلے جاو تو وہ چلے جاویں گے۔بیماروں کو ہاتھ رکھ کر چنگا کرے گا۔وغیرہ وغیرہ مرقس ۱۶ باب ۱۷۔عیسائی انصاف سے کہیں۔تمام دنیا میں کوئی عیسائی مومن ہے ؟ یا سب کے سب کافر ہیں؟ اگر کوئی ہے تو اپنے ایمان کو مرقس ۱۶ باب ۱۷ پر رکھ کر دیکھے! اگر کہے کہ اس وقت معجزات کی ضرورت نہیں۔تو ہم کہتے ہیں۔ایسی ہی محمدؐ صاحب کے وقت بھی ضرورت نہ تھی۔دومؔ اگراَلْ کے معنے جو اَمیں ہیں۔کُل کے کئے جاویں تو یہ معنے ہوں گے۔ہمیں کُل معجزات بھیجنے سے کوئی امر مانع نہیں ہوا۔مگر اگلوں کا ان معجزات کو جھٹلانا۔یعنی جس قدر معجزات ہماری قدرت میں ہیں وہ سب کے سب ظاہر نہیں کئے گئے۔… اس سے بالکلیہ معجزے کی نفی نہیں نکلی۔اس کی مثال ایسی سمجھو۔کوئی کہے مَیں نے کُل مطالب بیان نہیں کئے۔اس کلام سے کوئی بھی سمجھ سکتا ہے کہ قائل نے کوئی مطلب بھی بیان نہیں کیا۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع دوم صفحہ۶۲-۶۳) آپؐ کے دلائلِ نبوّت اور علاماتِ رسالت جن کو قرآن کریم نے آیات اور برہان کر کے تعبیر فرمایا ہے قانونِ قدرت میں مشہود اور قرآن میں موجود ہیں۔اگر ان دلائل کو معجزہ کہیں جس کے معنے ہیں غیر کو عاجز کر دینے والا یا خرقِ عادت کہیں تو بالکل بجا ہے۔اوّل آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت دنیا کی تاریخ پر نظر کرو۔جس ملک میں آپؐ پیدا ہوئے وہ کیسا تھا۔عامہ عرب کسی مذہب کے پابند نہیں کوئی کتاب نہیں رکھتے۔کوئی پتھروں کو پُوجا کرتا ہے کوئی درختوں کی کوئی سیّاروں کی۔کوئی بھُوت پریت کی۔جزا و سزا کے منکر ہیں۔سیاست و تمدّن کو نہیں جانتے۔چوری قمار بازی۔باہمی جنگ اور بُغض اور عناد۔جہالت۔فخر اور کِبر ان کی صفات ہیں اور شاعریت پر کمال کا مدار ہے۔عرب کے مشرق میں ایک طرف ہندوستان ہے جس میں توہّمات کی گھٹا ایسی چھائی ہے کہ مرد کی شرمگاہ جسے لِنگ کہتے ہیں اور عورت کی شرمگاہ جسے بھگؔ کہتے ہیں بے طعن پوجی جاتی ہے۔منترفال وغیرہ توہّمات کا سمندر موج مار رہا ہے۔دوسری طرف ایران ہے جس میں آگ کی پرستش۔سیّاروں کی معبودیت۔نور و ظلمت دو خداؤں کی سلطنت پر اعتقاد ہے شمال و مغرب اور عین وسط میں کچھ عیسئی پوپ کے بندے رومن کیتولک وغیرہ پروٹسٹنٹ مذہب کے علاوہ ( اس مذہب کا بانی لوتھر ہے) مریم اور مسیحؑ کے پچاری اور ان میں پوپ صاحب بہشت بانٹنے