حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 539
َ مونٔث کی ضمیر ہے اور یہ اَحْسَنؔ کیلئے ہے جو مذکّر ہے۔یہ کیونکر درست ہوا؟ مَیں نے کہا یہ تو معمولی بات ہے کہ یہ اسم تفضیل جس پر ال نہ ہو مذکر و مؤنث کیلئے یکساں آ سکتا ہے۔جب جا کر ان کو ہوش آیا۔اس موقعہ پر مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اوّل بات کو تو لو۔پھر مُنہ سے بولو۔انسان ایسا لفظ کیوں مُنہ سے نکالے جس کا نتیجہ اخیر میں بُرا بھگتنا پڑے۔: یُفْسِدُ بَیْنَھُمْ سورۃ یوسف میں بھی یہ لفظ آیا ہے (یوسف:۱۰۱) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) ۵۶۔ : سب لوگوں کو۔: اس کے پہلے فرمایا۔ان کا تعلق آپس میں کیا ہوا؟ سُنو! قرآن مجید میں ہے کہ(مائدہ:۷۹) نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو فرماتا ہے کہ آپ محتاط رہیں۔آپ کو اﷲ تعالیٰ نے بہت بزرگی دی۔ایسی بات آپ کی شان سے بعید ہے۔اسی واسطے نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم لعّان نہیں تھے۔حدیث میں جہاں ذکر آیا ہے وہاں ساتھ ہی ممانعت کا بیان بھی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍فروری ۱۹۱۰ء) : نبیوں نے تیرے متعلق بڑھ بڑھ کر پیشگوئیاں کی ہیں۔ازاں جملہ زبورِ داؤد میں بھی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۳۶۲) ۶۰۔