حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 508 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 508

سارا خدا کا ہی ہو جاؤں۔قوٰی بھی اسی کے۔عزّت و آبرو بھی اسی کی۔میری پہلی شادی جہاں ہوئی۔وہ مُفتی ہمارے شہر کے معظّم و مکرّم تھے۔ایک دن میری بیوی کو کسی نے کہا’’ چوبارے دی اِٹ وَہْنی وِچ جالگیں ایں‘‘ مگر کہنے والے نے جھوٹ کہا۔اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے فضل کئے۔پھر ہمیں ایسے موقعہ پر ناطہ دیا کہ تم تعجّب کرو۔جمّوں کا رئیس بیمار تھا۔ں اس نے سب دوائیں کیں فائدہ نہ ہوا۔تو فقراء کی طرف متوجّہ ہوا۔جب ہندو فقراء سے فائدہ نہ ہوا۔تو مسلمان فقراء کی طرف توجہ کی۔اور ان سب فقراء کو بڑا روپیہ دیا۔ایک میرا دوست جو اس روپے کے خرچ کا آفیسر تھا۔اس نے ذکر کیا کہ تین لا کھ تو خرچ ہو چکا۔اب ایک فقیر سُنا ہے جسے بلانے کیلئے آدمی کیا اور اس کے لئے اتنے ہزار روپے تھے۔مگر اس کا خط آیا۔اس میں لکھ تھا کہ میرا کام تو دُعا کرنا ہے۔دعا جیسی لدھیانہ میں ہو سکتی ہے ویسی کشمیر میں۔دونوں جگہ کا خدا ایک ہے وہاں آنے کی ضرورت نہیں۔ہاں ایک بات ہے۔اگر آپ کا رعایا سے اچھا سلوک نہیں تو اس کے افراد بد دعائیں دے رہے ہوں گے۔تو مَیں ایک دُعا کرنے والا کیا کر سکتا ہوں۔باقی رہے روپے۔سو جب آپ نے فقیر سمجھا ہے تو پھر غنی نہیں ہو سکتا۔اس آفیسر نے کہا کہ مَیں نے ایسا آدمی ہندؤوں میں دیکھا ہے نہ مسلمانوں میں۔مَیں نے (کہا) سردار صاحب ایسے آدمیوں کے ساتھ رشتہ ہو تو پھر کیا بات ہے۔سُنو! عبدالحی کی ماں اسی بزرگ کی بیٹی ہے۔خدا تعالیٰ میری خواہشیں تو یُوں پوری کرتا ہے۔اب مَیں غیر کا محتاج بنوں تو یہ عدل نہیں۔مَیں نے نیکوں سے اخلاص کے ساتھ تعلق چاہا۔تو خدا کو بھی پسند آیا۔ہمارے گھر میں باغ لگا دیا۔فُرُط دے عقلمند بھی دے۔اس واسطے میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ تمہارا ہتھیار دُعا ہو جائے۔دُعا بڑی نعمت ہے۔(الفضل ۲؍ جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵۔۱۶) ۹۲۔  اور پورا کرو اقرار اﷲ کا جب آپس میں قرار دو اور نہ توڑو قسمیں پکی کے پیچھے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۵۱) :یہ ایک پیشگوئی فرماتا ہے کہ ایک وقت مشرکین عہد توڑیں گے۔یہ بھی