حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 507
جنابِ الہٰی ہیں۔ایک طرف محمّد رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ وسلم) ہیں۔محمدؐ رسول اﷲ کی دعائیں اپنے حق میں سُنو آپؐ کا چال و چلن سُنو۔پھر یہ کہ آپ نے ہمارے لئے کیا کیا۔اپنے تئیں جان جوکھوں میں ڈالا۔ایسے مخلص مہربان صلی اﷲ علیہ وسلم کی فرماں برداری اپنے دوست کی فرماں برداری کے برابر بھی نہ کرو تو کس قدر افسوس کی بات ہے۔بعض تاجروں کو مَیں نے دیکھا ہے۔وہ رستے میں چلتے ہیں اور حساب کرتے جاتے ہیں۔معلوم ہوتا ہے آپ فکر میں مَست ہیں اور یہ خیال نہیں کہ جس نے یہ تمام تعمتیں دیں اسکا شُکر بھی واجب ہے۔دیکھو اسوقت مَیں کھڑا ہوں۔اور محض خدا کے فضل سے کھڑا ہوں۔پَرسوں میری ایسی حالت تھی کہ مَیں سمجھا کہ میرا آخر دَم ہے اس کا فضل ہوا کہ مجھے صحت ہوئی۔اس نے مجھے عقل و فراست دی۔اپنی کتاب کا علم دیا۔رسولوں کی کتابوں کا فہم دیا۔اگر یہ انعام نہ ہوتے تو جیسے اور بھنگی ہمارے شہر کے ہیں۔مَیں بھی ہو سکتا تھا۔مَیں تمہیں کھول کر سُناتا ہوں کہ عدل کرو۔روپیہ جس آنکھ سے لائے ہو۔اسی سے ادا کرو۔مزدور کی مزدوری پسینہ سوکھنے سے پہلے دو۔خدا کے ساتھ معاملہ صاف رکھو۔پھر اس سے بڑھ کر حکم دیتا ہے کہ عدل سے بڑھ کر احسان کرو پھر فرماتا ہے کہ احسان میں تو پھر احسان کا خیال آ جاتا ہے۔تم دوسروں سے ایسا سلوک کرو جیسے اپنے بچوں کے ساتھ بُدوں خیال کسی بدلہ کے کرتے ہیں۔… دُعا کے سوا مجھے کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی۔جو بدیوں سے بچائے۔کامیابی دکھائے۔ابھی ایک لڑکاتھا۔اس کو ابھی ہوش نہ تھا۔کہ میرے پاس لایا گیا۔بڑے بڑے رنگوں میں مَیں نے اس کے ساتھ سلوک کیا۔مجھے بڑے بڑے خیال تھاے۔خدا اُسے یہاں تک پہنچا دے۔مگر آخر اسے عیسائیوں کا گھر پسند آیا۔دل جو ہوتے ہیں۔ان کا نام قلب اس لئے رکھا ہے کہ بدلتے رہتے ہیں۔اس واسطے میری عرض ہے کہ تم دعاؤں میں لگے رہو۔تمہارے بھلے کیلئے کہتا ہوں۔ورنہ مَیں تو تمہارے سلاموں۔تمہارے مجلس میں تعظیم کیلئے اُٹھنے کی خواہش نہیں رکھتا۔اور نہ یہ خواہش کہ مجھے کچھ دو۔اگر مَیں تم سے اس بات کا امیدوار ہوں۔میرے جیسا کافر کوئی نہیں۔اس بڑھاپے تک جس نے دیا۔اور امّید سے زیادہ دیا۔وہ کیا چند روز کیلئے مجھے تمہارا محتاج کریگا؟ سُنو!بچے کی شادی تھی۔میری بیوی نے کہا۔کچھ جمع ہے توخیر۔ورنہ نام نہ لو۔میں نے کہا۔خدا کے گھر میں سبھی کچھ ہے۔آکر بہت جھگڑنے کے بعد اس نے کہا اچھا پھر مَیں سامان بناتی ہوں۔مَیں نے کہا مَیں تمہیں بھی خدا نہیں بناتا۔میرے مولیٰ کی قدرت دیکھو۔کہ شام تک جس سامان کی ضرورت تھی۔مہیا ہو گیا۔مَیں نے کیوں سنایا۔تا تمہیں حرص پیدا ہو اور تم بھی اپنے مولیٰ پر بھروسہ کرو۔پھر میری بیوی نے کہا۔عبدالحی کا مکان الگ بنانا ہے تو اس کیلئے بھی خدا نے ہی سامان کر دیا۔ان فضلوں کیلئے عدل کا اقتضاء ہے کہ مَیں