حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 509 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 509

ثبوتِ نبوّت ہے۔کیونکہ آکر حدیبیہ کی صلح کو کفّار نے توڑا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) ۹۳۔    : اس کے معنے ہیں ’’ دھوکہ ‘‘ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم ایک وقت مکّہ میں تشریف لے گئے۔اپنی اپنی رؤیا لَتَدْ خُلُنَّ الْمَسْجِدَ(الفتح:۲۸)کے مطابق جب آپؐ حدیبیہ میں پہنچے تو ان لوگوں نے مزاحمت کی۔آکر صلح ہوئی اور کچھ معاہدے ہوئے جس میں سے عرب کے تمام قبیلوں کی فہرستیں بنیں۔اور جو مسلمانوں کے طرفدار تھے۔وہ بھی اور جو مشرکین کے جانب دار تھے۔وہ بھی لکھے گئے۔آپؐ نے حج و عمرہ کی اجازت چاہی تو انہوں نے کہا۔اس سال نہیں۔پھر آنا اور ہتھیار بند رہنا ہو گا۔آپؐ نے یہ بھی تسلیم کر لیا۔ایک خزاعۃ قوم تھی۔جنہوں نے اپنا نام نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے جانبداروں میں لکھا دیا۔اور وائل نے مشرکین کے طرفداروں۔میں آخر ایک وقت وائل نے خزاعۃ پر حملہ کر دیا۔خزاعی قوم نے فورًا ایک آدمی مدینہ طیّبہ میں بھیجا اور خود بطور پناہ لینے کے مکّہ میں آئے۔اس امّید پر کہ ہماری مدد ہو گی۔مگر انہوں نے مدد نہ کی۔بلکہ وائل کی جنبہ داری کی۔پھر انہوں نے ایک آدمی اور مدینہ بھیجا۔جو چند شعر بنا کر بھی لے گیا۔جس نے جا کر اپنا تمام حال کہا۔آپؐنے اس بدعہدی پر مکّہ والوں پر چڑھائی کی۔اﷲ تعالیٰ اس قصّہ کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔دیکھو انہوں نے خدا کو ضامن بنایا مگر معاہدات کی کچھ پرواہ نہ کی۔اور سب ساختہ پر داختہ توڑ ڈالا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۰؍فروری۱۹۱۰ء) : صلح حدیبیہ کے معاہدے کو مشرکین نے اسی طرح اپنے ہاتھوں سے توڑا جس طرح ایک عورت اپنا کاتا ہوا ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۳)