حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 35
۷۸۔ ۱؎ دیر کرنا۔تاخیر کرنا۔(مرتّب) کیا نہیں دیکھا تُو نے ان لوگوں کو جن کو کہا گیا۔اپنے ہاتھ روک رکھو۔نماز کو پڑھتے اور زکوٰۃ کو دیتے رہو۔پس جب ان کو لڑنے کا حکم دیا گیا۔اس وقت ایک فریق ان میں سے اﷲکے ڈر کی طرح لوگوں سے ڈرتا ہے یا اس سے بھی زیادہ ڈرتا ہے اور وہ بول اُٹھے کہ اے ربّ تُو نے کیوں لڑائی ہمارے ذمّہ لگا دی۔تھوڑی مدّت تک ہمیں کیوں اور ڈِھیل نہ دی۔تُو ان کو کہہ دے کہ دنیا کا فائدہ تو تھوڑا ہے اور جو تقوٰی کرتا ہے۔انجام اس کیلئے بہتر ہے۔اور کوئی ایک فتیلہ کے برابر بھی بے انصافی نہیں کیا جاوے گا۔بعض لوگ بڑے بڑے دعوے کیا کرتے ہیں کہ ہم یُوں کریں گے دُوں کریں۔اور اپنی جواں مردی اور بہادری کی ڈِینگ مارا کرتے ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ ایسے متکبّر کبھی اپنے دعووں کو پُورا اور ثابت کر کے نہیں دکھلایا کرتے۔اور نہ دکھلا سکتے ہیں۔بدی کو چھوڑنا اور نیکی کو کرنا نہ صرف انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوا کرتا۔بغیر اﷲ تعالیٰ کی مدد کے نہ انسان بُرائیوں اور فضُولیوں کو چھوڑ سکتا ہے اور نہ کوئی بہادری کا کام کر سکتا ہے بدُوں حکمِ الہٰی… دعوے کرنے والے اکثر ناکام رہتے ہیں۔مَیں نے ایک جنگی افسر سے پوچھا کہ آپ کے لشکر میں بہادر اور بُزدل کی کیا نشانی ہوا کرتی ہے۔اُس نے کہا۔کہ میرا تجربہ ہے کہ سپاہی اکثر مُونچھوں پر تاؤ دیتے رہتے ہیں وہ عموماً میدانِ جنگ میں بُزدلی ظاہر کرتے ہیں اور جو سیدھے سادھے ہیں وہ لڑائی کے وقت شیر کی طرح حملہ کرتے ہیں۔