حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 36
غرض خُوب سمجھ رکھو کہ جو لوگ بلاوجہ تکبّر کرتے ہیں اﷲ تعالیٰ انکو عمل کی توفیق نہیں دیا کرتا۔یہاں بھی اﷲ تعالیٰ نے اسی بات کا بیان کیا ہے کہ بعض لوگ اس قدر جلد باز تھے کہ ان کو کہنا پڑا لیکن جب انکو لڑنے کا حکم دیا گیا تو کہنے لگے ۔اس قسم کا لاف زنی وغیرہ کی غلطیاں انسان میں جو ہوتی ہیں انکا علاج اور نیز ہر ایک مرض کا علاج۔کثرت سے استغفار اور لاحول پڑھنا ہے۔خدا تعالیٰ سے دعا مانگنی چاہیئے کہ وہ سابقہ گناہوں کے بدنتائج سے محفوظ رکھے اور آئندہ بدی کے ارتکاب سے حفاظت بخشے۔استغفار اور لاحول کا مطلب یہ ہے کہ اے اﷲ تیری قوّت کے بغیر میں کوئی بدی نہیں چھوڑ سکتا۔اور نہ تیری قوت کے بغیر کوئی نیکی کا کام کر سکتا ہوں۔تب خدا نیکی کرنے کی توفیق بخشے گا۔انسان پر مشکلات آتے ہیں لیکن اﷲ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے۔مَیں خود بھی قرآن پڑھتا ہوں اور تُم کو بھی سُناتا ہوں۔تم جانتے ہو کہ قرآن میں دو طرح کی راہیں بیان کی ہیں ایک طرف انبیاء اور مُتّقین کا ذکر اور ایک طرف فاسقوں اور فاجروں کا بیان ہے۔کہیں گندے آدمیوں کے بُرے انجام بتلائے ہیں کہیں بھَلوں کے نیک انجام دِکھلائے ہیں۔پس مومن کا کام ہے کہ ان تمام راہوں سے واقفیت حاصل کرے۔کسی کو یہ خیال نہ گزرے کہ بعض وقت درس میں ایسی باتیں بیان ہوتی ہیں جن کی لڑکوں کو خبر بھی نہیں ہوتی اور جب بیان ہوتی ہیں۔تو وہ ان سے آگاہ ہو جاتے ہیں تو اس بدی کا رتکاب کرتے ہیں ایسا کرنا بے وقوفی ہے۔میرے پاس ہزاروں خط اس مضمون کے بھرے ہوئے آتے ہیں کہ ناواقفی کی وجہ سے ہم ہلاک ہو گئے۔ناواقفی بہت بُری بَلا ہے۔جو لڑکا ہم سے سُنے کہ زناء بھی کچھ شَے ہے اور پھر اس سُننے پر زناکاری شروع کر دے اس کو تو پھر خُدا اور رُسول کے کلام سے بھی فائدہ نہیں ہو سکتا۔صرف یہ کہتے رہنا کہ نیکی کرو۔نیکی کرو اور بدی کو چھوڑ دو۔یہ کوئی وَعظ نہیں ہے۔اور نہ اس سے سُننے والے کو فائدہ ہوتا ہے فائدہ تو جب ہی ہو گا۔جب نیکی اور بدی کا علم ہو گا اور کسی بدی کے ارتکاب سے وہ اس وقت بچ سکے گا جب وہ جانتا ہو گا۔کہ یہ بدی ہے۔پھر اس قسم کے وعظ تو آدمی گِر جوں اور ٹھاکر دَواروں میں بھی بیٹھ کر کر سکتا ہے جس سے بھَلے اور بُرے دونوں قسم کے لوگ خوش ہو جایا کرتے ہیں اور کوئی مخالفت نہیں ہوتی۔مخالفت اُسی وقت شروع ہوتی ہے جب کھول کھول کر بیان کیا جاوے۔اگر انبیاء علیھم السلام ان باتوں کو مفصّل کھول کر بیان نہ کرتے تو کوئی انکا مخالف بھی نہ ہوتا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت اسی واسطے ہوئی کہ انہوں نے مکّہ والوںکے عیوب کھول کر ان پر ظاہر کر دیئے۔اگر عیوب کو بیان نہ کریں تو پھر اور کیا بیان کر سکتے ہیں۔قومِ لُوطؑ کی بداخلاقی اور انکی تباہی کی نسبت اگر کچھ بیان کرنا ہو تو کیا اصل واقعہ کو چھوڑ کر ہم کہہ دیا کریں کہ