حقائق الفرقان (جلد ۲)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 607

حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 357

نے اس سائل کو دیکھ دیکھ کر فرمایا کہ تیرے گھر کوفہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں۔فرمایا۔امام حسینؓ کے خون کے وقت تمہیں فتویٰ کی ضرورت نہ تھی؟ : جب کوئی حکمِ قرآنی آئے تو پھر شرح صدر سے اسے نہیں کرتے بلکہ بہانے بنانے لگتے ہیں کہ اپنی قوم کا لحاظ ہے۔یہ بات ہے۔وہ بات ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) : واعظ و ناصح جب اپنے وعظ کیلئے مناسب محل نہ دیکھے تو اس کا سینہ تنگی کرتا ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۵۹) ۱۸۔    : اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو دین آیا۔اس کی صداقت کے تین نشان فرمائے۔ایک بیّنہ۔دومؔ شاہد جو اس کے اندر سے ہو یعنی ضمیر کی شہادت۔فراست مومن۔سومؔ۔الہٰی کتب مثلاً موسٰی کی کتاب کی شہادت۔انبیاء و فلاسفروں میں یہ فرق ہے کہ فلاسفروں کا آپس میں ضرور فرق ہوتا ہے مگر انبیاء اصولاً سب کے سب متفق ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) : سچائی کے گواہ ۱۔اﷲ تعالیٰ کا مکالمہ ۲۔وجدان صحیح ۳۔عقل صحیح ۴۔فطرتِ سلیمہ ۵۔سنن الہٰیہ ۶۔اخلاق صحیحہ ۷۔اسماء الہٰیہ۔(تشحیذالاذھان جلد۸نمبر۹ صفحہ ۴۵۹) ۱۹۔