حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 356
ایک بیوی کا خاوند فوت ہو گیا۔اس کے دل میں خیال آیا کہ اب اس کی مثل کون ہو گا۔مگر معاً اس نے استغفار کیا۔اور کہا کہ خدا تعالیٰ کو سب قدرتیں ہیں۔چنانچہ اس کے بعد اس کا نکاح حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے ہو گیا۔اور اس نے خود اقرار کیا کہ یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔یاس مومن کا کام نہیں۔حضرت یعقوب علیہ السلام نے بھی ایک موقعہ پر فرمایا ہے (یوسف:۸۸) چنانچہ اس کا پھل پایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۱۱۔ : حدیثوں میں ایک شخص کا ذکر ہے جسے جذام تھا۔اس کے سامنے فرشتہ متمثل ہو کر آیا اور پوچھا کیا چاہتا ہے۔کہا لَوْنٌ حَسَنٌ۔رنگ اچھا ہو۔جسمانی صحت ہو۔چنانچہ ایسا ہو گیا پھر اس نے کہا کہ کیا چاہتا ہے۔کہا مال مویشی اونٹ وغیرہ۔یہ بھی مل گیا۔پھر وہی فرشتہ گداگر کی شکل میں اس کے سامنے آیا اور سواری کے لئے گھوڑا مانگا۔تو اس نے اسے جھڑکا کہ یوں دینے لگے تو ہمارے پاس کیا رہے اور اسے ذلیل سمجھا۔بدبخت انسان تھوڑے سے سُکھ پر پھُول بیٹھتا ہے اور اکڑ باز بن جاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۶؍دسمبر ۱۹۰۹ ء ) ۱۳۔ : کئی لوگ ایسے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے بعض حصہ کلام کی مطلق پرواہ نہیں کرتے۔دوسروں کی عیب چینی معمولی معمولی باتوں پر کرتے ہیں اور خود اپنے نفس پر غور نہیں کرتے کہ اہم سے اہم فرض کے تارک ہیں۔حضرت ابن عباسؓ کے پاس ایک شخض آیا اور پوچھا کہ بے وجہ مکھّی مارنے کا کیا قصاص ہے۔آپؓ