حقائق الفرقان (جلد ۲) — Page 275
۱۔ یہ سورۃ توبہ الگ سورۃ نہیں بلکہ انفال کا ایک حصّہ ہے۔یہ ایک بے سُود بحث ہے کہ اس میں بِسْمِ اﷲ کیوں نہیں ہے۔ہاں اس ٹکڑے کے علیحدہ کرنے میں ایک غرض تھی۔مکّہ کی فتح کے بعد ابوبکرؓ کو نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے انتظام کیلئے بھیجا تھا۔اس کے بعد انہی آیتوں کے ساتھ حضرت علیؓ کو بھیجا۔یہ ایک اعلانِ جنگ تھا جو کہ بطور یادگار کے علیحدہ رکھا گیا۔اس اعلانِ جنگ میں وجوہات بیان کئے جاتے ہیں جن کی بناء پر جنگ کیا جائے۔: بیزاری کا اظہار ہے۔اﷲ اور اس کے رسول کی طرف سے۔: عہد کیا۔پھر توڑ دیا (اس کا ذکر آگے آتا ہے) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۲۔ : نبی کریمؐ نے ۱۳ برس وعظ کیا۔بڑے بڑے دُکھ اٹھائے۔۱۳ برس کے بعد مدینے میں آئے یہاں بھی آٹھ برس کفّار کا باوجود نیک سلوک کرنے کے بھی بدسلوک رہا۔اب اکیس برس کے بعد کہا جاتا ہے۔اگر توبہ کرو تو بہتر ورنہ عذاب الیم آتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍نومبر ۱۹۰۹ء) ۴۔