حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 388 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 388

حقائق الفرقان ۳۸۸ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ کے آنے پر تمام دنیوی خیالات کو بالائے طاق رکھ کر خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتا۔تب تک اس میں اسلامی نشان نہیں پایا جاتا۔ہر ایک قوم والوں کے درمیان کوئی مذہبی نشان ہوتا ہے۔عیسائی لوگوں نے وہ نشان صلیب کا رکھا ہے۔جس کو وہ لکڑی یا لو ہے یا چاندی سونے کی بنوا کر اپنی چھاتی پر یاسر پر اور معبد خانوں کے اوپر لگا دیتے ہیں۔اس واسطے عیسوی مذہب کو صلیبی مذہب کہتے ہیں۔اور عیسائیوں نے جولڑائیاں اپنے مذہب کی خاطر مسلمانوں کے ساتھ کیں ان کو صلیبی جنگ کہتے ہیں۔ایسا ہی ہندو لوگ اپنے ہندو ہونے کی نشانی میں بدن پر ایک تا گہ رکھتے ہیں جسے زنار یا جنیو کہتے ہیں۔مسلمانوں کے درمیان ان کے اسلام کی نشانی یہی ہے کہ مسلمان ہر حالت رنج و راحت، صحت و بیماری ، امن و جنگ میں اپنے وقت پر اپنے خدا تعالیٰ کے حضور میں حاضری بھرنے کے واسطے چست ہو جاتا ہے۔عین جنگ کے موقع پر جہاں دشمنوں کے ساتھ لڑائی ہورہی ہوتی ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ صف بندی کر کے نماز پڑھتے اور پڑھاتے تھے۔اس سے بڑھ کر نماز کے واسطے اور کیا تاکید ہوسکتی ہے۔۔وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں مگر کبھی کبھی جس دن کپڑے بدلے یا صبح کے وقت جب ہاتھ منہ دھو یا تو نماز بھی اس اتفاق سے پڑھ لی یا چند ایسے دوستوں میں قابو آ گئے جو نماز پڑھتے ہیں۔تو وہاں ان کے درمیان مجبورا پڑھ لی۔یہ لوگ بھی غفلت کر نیوالوں میں شامل ہیں۔۳۔پھر کچھ ایسے لوگ ہیں۔جو پڑھتے تو ہیں مگر بہ سبب تکبر کے یا بہ سبب ستی کے اپنے ہی گھروں میں پڑھ لیتے ہیں ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔جب نماز کا وقت آیا تو اسی جگہ جلدی جلدی نماز پڑھ لی۔گویا ایک رسم ہے جس کو ادا کرتے ہیں یا ایک عادت ہے جس کو پورا کرتے ہیں۔مسجد میں جانا اور جماعت کو پانا ان کے نزدیک ایک بے فائدہ امر ہے۔یہ لوگ بھی غافلین میں شامل ہیں۔اکثر آجکل کے دنیوی رنگ میں بڑے لوگوں میں اگر کسی کو نماز کی عادت ہے۔( توایسی ہے)۔۴۔پھر بعض لوگ مسجد میں بھی جا کر پڑھتے ہیں۔مگر بے دلی کے ساتھ۔ان میں تعدیل ارکان