حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 389 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 389

حقائق الفرقان ۳۸۹ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ کا خیال نہیں۔اور خدا تعالیٰ کی طرف پوری توجہ سے نہیں جھکتے اور جلدی جلدی نماز کوختم کرتے ہیں۔اور نماز کے اندر وساوس کو اور غیر خیالات کو بلاتے ہیں۔پھر وہ لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں۔مگر ویسی نماز نہیں پڑھتے جو خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو سکھلائی اور اس کے رسول نے اپنی امت کو سکھلائی بلکہ وہ اپنے لئے ایک نئی نماز ایجاد کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ جس وقت یہ سورہ شریف نازل ہوئی تھی۔اس وقت بھی تو نماز پڑھی جاتی تھی۔اور ظن کرتے ہیں کہ تاریخی شہادتیں تمام جھوٹی ہیں۔خواہ کس قدر جانفشانی کے ساتھ وہ واقعات سینہ بسینہ جمع کئے گئے ہوں۔گویا ان کے نزدیک تمام جہان کی تاریخ جھوٹ ہے۔اور اس میں کچھ راستی نہیں۔اور کہتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ ہر ایک انسان اپنے لئے آپ قرآن شریف کو سمجھے گا اور وہ دنیا میں ہزار ہا اشیاء کے محتاج ہیں لیکن جب انہیں کہا جائے کہ تم قرآن شریف کے سمجھنے کے لئے بھی کسی کے محتاج ہو تو اپنے نفس کو دھوکہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرآن شریف کسی کا محتاج نہیں وہ کلام الہی ہے۔اور سچ ہے کہ وہ محتاج نہیں۔لیکن کیا انسان بھی محتاج نہیں۔کیا ماں کے پیٹ سے کوئی شخص قرآن شریف پڑھ کر نکلا تھا؟ اور وہ کہتے ہیں کہ وہ نماز جو دوسرے مسلمان پڑھتے ہیں۔وہ درست نہیں۔خواہ اس کے متعلق سچی اور حقیقی شہادت دکھائی جائے کہ آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز اسی طرح پڑھی تھی اور کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے آنحضرت سے روایت کی وہ قابلِ اعتبار نہ تھے۔اور نہیں سوچتے کہ اگر وہ سب کے سب ایسے ہی تھے تو پھر قرآن شریف بھی ہم تک انہیں بزرگوں کے ذریعہ سے پہنچا ہے پس کیونکر یقین ہو کہ قرآن شریف بھی اصلی ہے کیونکہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔مگر کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ حفاظت کی آیت بھی ان لوگوں نے اپنے پاس سے ڈال دی ہو۔جنہوں نے ہم تک قرآن شریف کو پہنچایا؟ پس یہ راہ بہت ہی خطر ناک ہے جو چکڑالوی اور اس کے ہم خیالوں نے اختیار کی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۰ ۱۷ اکتوبر ۱۹۱۲ صفحه ۳۵۷،۳۵۶)