حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 25 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 25

حقائق الفرقان خالقِ کائنات نہیں۔۲۵ سُوْرَةُ الْجِنِ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اَنَّ الْمَسجِدَ لِلهِ۔۔۔إِلَّا بَلَغاً مِّنَ اللهِ وَ رسلته (الجن : ۱۹ تا ۲۴) اور مسجدیں اللہ کے لئے ہیں۔پس اللہ کے ساتھ کسی کو مت پکارو۔اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے اُٹھا۔تو اس پر ٹوٹ پڑنے لگے۔کہہ میں اپنے رب کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہیں کرتا۔کہہ میں تمہارے ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا۔کہہ کوئی مجھے خدائی عذاب سے پناہ نہیں دے سکتا۔اور نہ میرے لئے اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ ہے۔میرا کام تو صرف خدا کے پیغام پہنچا دینا ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۱۳۷۱۳۶) وَ أَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُودُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا - اور جب اللہ کا بندہ اس کی عبادت کے لئے اٹھا۔قریب تھا کہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۳۱) قام عبد الله -عبد اللہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرمایا۔منازل فلکی پر عروج کے وقت آپ اسی نام سے پکارے گئے۔سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ - (بنی اسرائیل:۲) نزولِ قرآن پاک کی شان کے وقت بھی آپ اسی نام سے پکارے گئے۔تَبْرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ الناهي۔عَلَى عَبْدِه - (الفرقان : ۲) كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا كَادُوا کی ضمیر جن اور انس، کفار اور مومن سب کی طرف راجع ہو سکتی ہے۔لبد لبدة کی جمع ہے۔اور لبدہ کے معنے بعض کو بعض پر لپیٹنا۔لُبَدَ بِضَةِ اللَّامِ وَفَتح قرآت ہے۔معنے یہ ہوئے کہ کفار مشرکین قرآن سنانے کے وقت مخالفت پر آمادہ ہو کر نبی پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور مومن مسلمین بھی اطاعت، انقیاد اور حفظ کلام کی نیت سے مسابقت کرتے ہیں۔لے وہ پاک ذات ہے جو لے گیا اپنے پیارے محمد کو راتوں رات۔۲ بڑی بابرکت ہے وہ ذات پاک جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا۔س سہو کا تب معلوم ہوتا ہے۔عبارت یوں ہونی چاہیے۔لُبَدَ بضَةِ اللَّامِ وَفَتْحِ الْبَاء بھی قرآت ہے۔