حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 24
حقائق الفرقان ۲۴ سُوْرَةُ الْجِنِ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا - ترجمہ۔اور مسجدیں تو اللہ ہی کے ذکر کے لئے ہیں تو اس کے ساتھ کسی کو بھی نہ پکارو۔اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ اللہ کی عبادت کرنے کو تو وہ جمع ہو جاتے ہیں اس پر ڈٹ کے ڈٹ ( جمگھٹا کرنے کو )۔کہہ دے کہ میں تو اپنے ہی رب کی طرف بلاتا ہوں اور اس کا کسی کو بھی شریک نہیں ٹھہراتا۔کہہ دے نہ تو میرے ہی اختیار میں ہے تم کو کچھ ضرر پہنچانا اور نہ راہِ راست پر لے آنا۔تو کہہ دے مجھ کو ہرگز پناہ نہ دے گا اللہ کے عذاب سے کوئی بھی اور میں اس کے سوا کوئی پناہ کی جگہ بھی نہ پاؤں گا۔مگر (ہاں میں اپنا فرض منصبی ادا کرتا ہوں ) یعنی خبر پہنچانا اللہ کی طرف سے اور اس کے پیام اور جو شخص نافرمانی کرے گا اللہ کی اور رسول کی تو بے شک اس کے لئے جہنم کی آگ ہے وہ مدتوں اس میں رہیں تفسیر۔اور یہ کہ سجدے کے ہاتھ پاؤں حق اللہ کا ہے۔سومت پکار واللہ کے ساتھ کسی کو اور یہ کہ جب کھڑا ہوا اللہ کا بندہ اس کو پکارتا۔لوگ کرنے لگتے ہیں اس پر ٹھٹھا۔تو کہہ میں تو یہی پکارتا ہوں اپنے رب کو اور شریک نہیں کرتا اُس کا کسی کو۔تو کہہ میرے ہاتھ میں نہیں تمہارا برا اور نہ راہ پر لا نا تو کہ مجھ کو نہ بچاوے گا اللہ کے ہاتھ سے کوئی اور نہ پاؤں گا اس کے سوا کہیں سرک رہنے کو جگہ۔فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۱۸ حاشیه ) مستحق عبادت اسلام کے نزدیک صرف وہ ہے۔جو خود موجود، کل کے نفع وضر رکا مالک و مختار ہو اور اس کا نفع وضرر کسی سے ممکن نہ ہو۔وہی جس کا کمال جلال و جمال ذاتی ہو۔اور تمام اس کے سوا اپنے وجود و بقا میں اسی کے محتاج۔سب کے کمالات جمال و جلال اسی کے عطا ہوں۔اور ایسی چیز اللہ تعالیٰ کے ماسوا اہل اسلام کے نزدیک کوئی بھی نہیں۔سب سے افضل، اکمل، اتم ، حضرت سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود دباجود ہے۔ان کی پاک جناب کو بھی اسلامی اللہ کا بندہ، اللہ کا رسول ہی اعتقاد کرتے ہیں۔اسلام کا اعتقاد ہے کہ ایک ذرہ کے بنانے کا بھی اختیار انہیں نہیں۔ایک رتی برابر کسی کے نقصان دینے کی قدرت نہیں۔آپ