حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 26

حقائق الفرقان ۲۶ سُوْرَةُ الْجِنِ جنوں کی طرف بھی اسی اعتبار سے گادُوا کا مرجع ہو سکتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عبادت میں مشغول ہوتے تو بہت سے لوگ آپ کے پاس جمع ہو جاتے۔انبیاء کا طریق کہ ہر ایک معاملہ میں نصیحت کا موقع نکال لیتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو اس موقع پر بھی سمجھانا شروع کیا کہ اتنا بڑا علم جو خدا نے مجھے دیا اس واسطے ہے کہ میں موحد ہوں۔شرک نہیں کرتا اور نمازوں میں دعائیں کرتا ہوں اور ان دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کو معبود سمجھ کر اس کی عبادت کرتا ہوں۔مگر تم ساتھ ہی شرک بھی کرتے ہو۔پھر فرمایا۔میں اتنا بڑا دعویٰ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا مجھے مکالمہ حاصل ہوتا ہے۔لیکن باوجوداس کے میں تمہارے نفع اور ضر راور راہ نمائی کا مالک نہیں ہوں یہ آیت آنحضرت کی سچائی کی بڑی گواہ ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ / مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۱) مجھے تو اپنی ذات کے ضر و نفع کا کوئی بھی اختیار نہیں ہاں جو چاہے اللہ۔( تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۱) -۲۵ - حَتَّى إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَ أَقَلُّ عَدَدًا - أَضْعَفُ۔آج تو یہ لوگ دعوے کرتے ہیں کہ ہم جتنے ہیں۔بڑے ہوئے ہیں لیکن چند روز کے بعد ان کو پتہ لگ جاوے گا کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔(ضمیمه اخبار البدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ / مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۱) ۲۸،۲۷ - عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا - ترجمہ۔وہ بڑا غیوں کا جانے والا ہے پس وہ خبر نہیں دیتا اپنے غیب کے بھید کی کسی کو۔مگر جس کو اپنے رسولوں میں سے چاہے تو وہ اس کے آگے اور پیچھے لگا دیتا ہے محافظ۔تفسیر۔غیب کی خبروں پر اظہار علی الغیب کے طریق سے یعنی متحد یا نہ طور پر سوائے رسول کے دوسرا کوئی قادر نہیں ہو سکتا۔اگر چہ پیش گوئیوں کے مفصل اجز انظری اور تعبیر طلب بھی ہوتے ہیں۔مگر نفس پیشگوئی جو ایک غیب کی بات پر مشتمل ہوتی ہے۔اس پر رسول اور نبی کو ایسا وثوق کامل ہوتا ہے کہ