حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 285
حقائق الفرقان ۲۸۵ سُوْرَةُ الْعَلَقِ سُوْرَةُ الْعَلَقِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ علق کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس باعظمت اللہ کے نام پاک سے جو رحمن ورحیم ہے۔۲ تا ۶ - اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِى خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَا وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ - الَّذِى عَلَمَ بِالْقَلَم - عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ - ترجمہ۔اپنے رب کے نام سے پڑھ جس نے ہر ایک شے کو پیدا کیا۔انسان کو پیدا کیا جونک سے۔پڑھ اور تیرا رب بہت بزرگ ہے۔جس نے علم سکھا یا قلم کے ذریعہ سے۔سکھایا انسان کو جو وہ جانتا نہ تھا۔تفسیر۔ان آیات میں آپ کی ترقی اور کامیابی اور کمالات پر جو کچھ لفظ ربَّكَ اور خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَق اور رَبُّكَ الْأَكْرَمُ اور عَلَمَ الْإِنسَانَ سے ظاہر ہو سکتا ہے۔وہ عقل والے آدمی سے مخفی نہیں۔پھر یہ پیشینگوئی جیسی پوری ہوئی وہ بالکل معجزہ ہے۔(فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحه ۲۴) اقرأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ یہ پہلے الفاظ ہیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غارِ حرا میں نازل ہوئے۔ہر کام بسم اللہ سے شروع کرنا چاہیے۔خلق کے بعد ربوبیت لازمی اور ضروری ہے۔ظاہری جسمانی پرورش سے پرورش روحانی مقدم ہے۔رب کے لفظ میں یہ بھی سمجھایا کہ آپ کی روحانی نشو نما کا یہ پہلا اور ابتدائی قدم ہے جو بتدریج ترقی کر کے آپ کو عظیم الشان بنادے گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ راگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۴) پہلا الہام جو ہمارے سید و مولی مد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوا۔وہ بھی اقرا باسم رنک ہی تھا اور پھر رب زدنی علما کی دعا تعلیم ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ علم کی کس قدر ضرورت ہے۔سچے علوم کا مخزن قرآن شریف ہے تو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف کے