حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 306
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ہے۔جس سے آپ کے ان تعلقات محبت کا جو خدا سے آپ کے لیے تھے صاف پتہ لگ سکتا ہے۔اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کو کس بلند رتبہ پر پہنچانا چاہتے تھے۔چنانچہ آپ نے اس وقت تعلیم دی ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْخَبثِ والخبائت۔یعنی جس طرح پر ان گندگیوں کو تو نکالتا ہے۔دوسری گندگیوں سے جو انسان کی روح کو خراب کرتی ہیں بچا۔جیسے پاخانہ جاتے وقت دعا تعلیم کی ویسے ہی پاخانہ سے نکلتے وقت سکھایا ہے۔غفرانگ غور تو کرو کہ کس قدر تزکیہ نفس کا خیال ہے۔حضرت ابوالملتہ ابوالحنفاء ابراہیم علیہ السلام اپنی دعا میں کہتے ہیں وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ابْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَ يزكيهم (البقرۃ:۱۳۰) پھر اگر مز کی کی ضرورت نہ تھی۔تو اس دعا کی کیا ضرورت؟ تلاوت کو اس لئے مقدم رکھا ہے کہ علم تزکیہ کے مراتب سکھاتا ہے اور تزکیہ کو بعد میں اس لئے رکھا ہے کہ بڑوں تزکیہ علم کام نہیں آتا اس لئے کتاب کے بعد تزکیہ کا ذکر کر دیا۔اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرنی اور پھر دوسری اور تیسری صدی کو خیر القرون کہا۔اس کے بعد فرمایا کہ ثَمَّ يَفْشُوا الكَذِبُ۔اب ایک نادان اور خدا کی سنت سے ناواقف کہہ سکتا تھا کہ آپ کی قوت قدسی معاذ اللہ ایسی کمزور تھی کہ تین صدیوں سے آگے مؤثر نہ رہی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے کور باطن کے جواب کے لئے فرمایا وَ اخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ۔آپ کی قوت قدسی ایسی مؤثر اور نتیجہ خیز ہے کہ تیرہ سو سال کے بعد بھی ویسا ہی تزکیہ کر سکتی ہے چنانچہ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بهم کا وعدہ فرمایا یعنی ایک اور قوم آخری زمانہ میں آنے والی ہے جو بلا واسطہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض اور برکات حاصل کرے گی۔اور ایک بار اور ہم اسی رسول کی بعثت بروزی کریں گے۔وہ بعثت بھی اسی کے ہم رنگ ہوگی جو فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا کے وقت تھی۔احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ امت کے اعمال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائے جاتے ا تو ان لوگوں سے جو یہاں آباد ہوں ایک رسول قائم کر جو تیرے احکام و نشان اُن پر پڑھے اور اُن کو لکھی ہوئی محفوظ باتیں سکھائے اور کی دانائی کی تعلیم دے اور اُن کو پاک وصاف کرے۔