حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 307
حقائق الفرقان ۳۰۷ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ ہیں۔پس سوچو کیسی تڑپ آپ کو پیدا ہوئی ہوگی۔جب آپ کو بتایا گیا ہوگا کہ اس قسم کے حاشیے چڑھائے جاتے ہیں۔جن سے امر حق کو شناخت کرنا قریباً محال ہو گیا ہے اور وہ باتیں داخلِ اسلام کر لی گئی ہیں۔جن کا اسلام سے کوئی تعلق اور واسطہ نہ تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ اس معلم کو دوبارہ بھیج دیں گے۔في الأمينينَ رَسُولًا کی بعثت کریں گے۔اس کی توجہ ان پر ڈالیں گے جو لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کے مصداق ہیں یعنی ابھی نہیں آئے۔آنے والے ہیں۔الحکم جلد ۶ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۷ ستمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷ تا۹) یہ سنت اللہ اور استمراری عادۃ اللہ ہے کہ جب دنیا میں بدی پھیلتی ہے۔بدی کیسی ! لکھے پڑھے بھی بند رہؤ ر اور عبدالطاغوت ہو جاتے ہیں۔خدا کا خوف دلوں سے اٹھ جاتا اور انسانیت مسخ ہو کر حیوانیت اور بہیمیت سی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے تباہ شدہ مخلوق کی دستگیری کے لئے ایک مامور دنیا میں بھیجتا ہے جو آ کر ان کی گم شدہ متاع پھر ان کو دیتا ہے۔اور خبیثوں اور طیب لوگوں میں امتیاز ہو جاتا ہے۔اس قاعدہ کو مد نظر رکھ کر صاف اشارہ ملتا ہے کہ خدا تعالیٰ کس وقت معلم اور مزکی کو بھیجتا ہے؟ اس کی شناخت کا کیا طریق اور نشان ہونا چاہیے؟ یہ بڑی بھاری غلطی پھیلی ہوئی ہے کہ جب کوئی مامور دنیا میں آتا ہے تو نا واقف اور نادان انسان اپنے کمزور خیال کے پیمانہ اور معیار سے اس کو پرکھنا چاہتے ہیں۔حالانکہ اس کو پر کھنے کے لئے وہ معیار اختیار کرنا چاہیے جو راست بازوں کے لئے ہمیشہ ہوتا ہے۔گورداسپور میں ایک موقع پر ایک شخص حضرت امام علیہ السلام کے متعلق مجھ سے کچھ سوال کرنے آیا۔میں نے جب اس سے یہ کہا کہ تم وہ معیار پیش کرو جس سے تم نے دنیا میں کسی کو راست بازمانا ہے۔تو وہ خاموش ہی ہو گیا۔اور سلسلہ کلام کو آگے نہ چلا سکا۔یہ بڑی پکی اور سچی بات ہے کہ راست باز ہمیشہ ایک ہی معیار سے پر کھے جاتے ہیں۔اور ان میں کوئی نرالی اور نئی بات نہیں ہوتی۔چنانچہ ہمارے بادی کامل فیر بنی آدم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد الہی یوں ہوا۔قُلْ مَا كُنتُ بِدُعا من الرُّسُلِ۔کہہ دے میں کوئی نیا رسول دنیا میں نہیں آیا دنیا میں مجھ سے پہلے