حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 305 of 500

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۵) — Page 305

حقائق الفرقان ۳۰۵ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ پہلے ہی سکھا دیا ہوا تھا۔اگر ایک بھی حدیث دنیا میں قلم بند اور جمع نہ کی جاتی۔تب بھی یہ مسائل بالکل صاف تھے۔غرض اللہ تعالیٰ کے فضل کے لئے مزکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ورنہ بڑی بڑی کتابوں والے عبدالطاغوت ہو جاتے ہیں اور جب یہ حالت پیدا ہوتی ہے اور قوم کے دماغ اور دل ( علماء اور مشائخ ) کی حالت بگڑ جاتی ہے۔اس وقت وہ مزکی آتا ہے اور اصلاح کرتا ہے۔جب قوم اور ملک ضلال مبین میں پھنس جاتا ہے تو ایک انسان خدا سے تعلیم پا کر آتا ہے۔جو قوم کو نجات دیتا ہے۔اور تزکیہ نفس کرتا ہے۔خیالی ریفارمروں اور جھوٹے دعویداروں اور خدا تعالیٰ کے مامور ومرسلوں میں بھی امتیاز اور فرق یہی ہوتا ہے کہ اول الذکر کہتے ہیں۔پر کر کے نہیں دکھاتے۔اور تزکیہ نفس نہیں کر سکتے۔مگر خدا کے مامور اور مرسل جو کہتے ہیں وہ کر کے دکھاتے ہیں۔جس سے تزکیہ نفوس ہوتا ہے۔ان کے قلوب صافیہ سے جو کچھ نکلتا ہے۔وہ دوسروں پر مؤثر ہوتا ہے۔ان میں جذب اور اثر کی قوت ہوتی ہے جو دنیا دار ریفارمروں میں نہیں ہو سکتی۔اور نہیں ہوتی۔اور نہیں ہوئی۔پس اس نافہم کے سوال کا جواب اس سے بخوبی حل ہوسکتا ہے۔جو کہتا ہے کہ کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے؟ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مامور کے آنے کا وقت صاف بتا دیا ہے جب کہ فرمایا۔وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِین۔اس کی آمد اور بعثت سے پہلے ایک کھلی گمراہی پھیلی ہوئی ہوتی۔اور میں نے ابھی تمہیں بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دنیا کی کیا حالت تھی اور پھر کس طرح آپ نے آکر اس کی اصلاح کی اور تزکیہ نفوس فرمایا۔جولوگ علم تاریخ سے واقف ہیں۔ان پر یہ امر بڑی صفائی کیساتھ منکشف ہو سکتا ہے۔اس سے بڑھ کر تزکیہ نفوس کا کیا ثبوت مل سکتا ہے کہ آپ نے کوئی موقع انسان کی زندگی میں ایسا جانے نہیں دیا جس میں خدا پرستی کی تعلیم نہ دی ہو۔میں ایک چھوٹی سی اور معمولی سی بات پیش کرتا ہوں۔پاخانہ کے لئے جانا ایک طبعی تقاضا اور ضرورت ہے۔میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اس وقت کے لئے کسی بادی اور مصلح نے کوئی تعلیم انسان کو نہیں دی۔مگر ہمارے بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی انسان کو ایک لطیف اور بیش قیمت سبق خدا پرستی کا دیا