حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 317 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 317

حقائق الفرقان ۳۱۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ ترمذی نے عبادہ کی حدیث میں کہا ہے کہ اکثر اہل علم صحابہ کرام سے فاتحہ خلف امام کے وجوب پر ہیں اور بخاری نے جز القراۃ میں فرمایا ہے بے شمار تابعین قرآت خلف الامام کا فتوی دیتے تھے۔وَلَمْ يَكُنْ أَحْمَدُ يُقَدِّمُ عَلَى الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَمَلًا وَلَا رَأْيَا وَلَا قِيَاسًا وَلَا قَوْلَ صَاحِبِ وَلَا عَدَمَ عِلْمِهِ بِالْخِلَافِ الَّذِي يُسَمِّيْهِ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ إِجْمَاعًا وَيُقَدِّمُوْنَهُ عَلَى الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ وَقَدْ كَذَّبَ أَحْمَدُ مَنِ ادَّعَى الْإِجْمَاعَ وَلَمْ يَمْتَنِعُ تَقْدِيمُهُ عَلَى الْحَدِيثِ الثَّابِتِ وَكَذَلِكَ الشَّافِعِيُّ أيضاً نَضَ فِي رِسَالَةِ الْجَدِيدَةِ عَلَى أَنَّ مَالَمْ يُعْلَمُ فِيْهِ الْخِلَافُ فَلَيْسَ إِجْمَاعًا وَ نَصُوصُ رَسُولِ اللهِ صَلْعَمُ عِندَ الْإِمَامِ أَحْمَدَ وَسَابِرِاَئِمَّةِ الْحَدِيثِ أَجَلِ مِنْ أَنْ يُقَدَّمَ عَلَيْهَا تَوَهُمُ إِجْمَاعِ مَضْمُونَه عَدَمُ الْعِلْمِ بِالْخِلَافِ وَلَوْ سَاغَ تَعَطَّلَتِ النُّصُوصُ وَسَاغَ لِكُلِ مَنْ لَّمْ يَعْلَمْ مُخَالِفًا فِي حُكْمِ مَسْئَلَةٍ أَنْ يُقَيِّمَ جَهْلَهُ بِالْمُخَالِفِ عَلَى النُّصُوصِ فَهَذَا هُوَ الَّذِي أَنْكَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ وَالشَّافِعِيُّ مِنْ لے دَعْوَى الْإِجْمَاعِ لَا يَظُنُّ بَعْضَ النَّاسِ أَنَّهُ اسْتِبْعَادُهُ الْوُجُودَ۔۔۔۔۔۔فقرہ۔سورہ کافرون میں لکم دینکم ولی دین کا جملہ عام لوگوں کی زبان پر منسوخ ہے اور فی الواقع منسوخ نہیں کیونکہ ے امام احمد حدیث صحیح پر مقدم نہیں کرتے تھے نہ کسی عمل کو، نہ کسی رائے کو، نہ کسی قیاس اور نہ کسی صحابی کے قول اور نہ اس کی لاعلمی اس مخالف امر سے جسے بہت سے لوگ اجتماع کا نام دیتے ہیں اور اسے حدیث صحیح پر مقدم کرتے ہیں اور امام احمد نے اس شخص کی تکذیب کی ہے جس نے اجماع کا دعوی کیا اور اسے ثابت شدہ حدیث پر مقدم کرنے سے باز نہ آیا اسی طرح امام شافعی بھی رسالۃ الجدید میں اس بات پر نص لائے ہیں۔جس امر پر اختلاف کا علم نہیں وہ اجماع نہیں ہے۔امام احمد اور دیگر آئمہ حدیث کے نزدیک حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصوص اس بات سے بالا اور برتر ہیں کہ ان کے مقابل پر اجماع کا واہمہ جس کا مضمون اختلاف سے لاعلمی پر مشتمل ہو مقدم کیا جائے۔اگر اس کو مقدم کرنا جائز قرار دیا جائے تو نصوص بے کار ہو کر رہ جائیں۔اور ہر اس شخص کے لئے جو کسی مسئلہ کے حکم میں مخالف (امر) کو نہیں جانتا اس کے لئے جائز ہو جائے گا کہ نصوص کے مقابل پر اپنی جاہلانہ رائے کو مقدم کر لے۔اور یہ وہ بات ہے جس کے امام احمد اور امام شافعی نے اجماع قرار دینے کا انکار کیا ہے۔کچھ لوگ یہ خیال نہ کریں یہ مستعد ہے۔