حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 318

حقائق الفرقان ۳۱۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دین کے معنے لغت میں جزا اور سزا کے ہیں پس آیت کے معنے یہ ہوئے کہ جس کو تم پوجتے ہو ہم اُسے نہیں پوجتے اور جس کو ہم پوجتے ہیں تم نہیں پوجتے تم کو تمہاری سزا ہے اور ہم کو ہماری جزا۔دیکھو حماسہ وَلَمْ يَبْقَ سِوَى الْعُدْوَانِ دَنَاهُمْ كَمَا دَانُو وَرَدَ كَمَا تُدِينُ تُدَانُ مشہور ہے اور اگر دین کے مشہور معنے میں لیں تب آیت کا یہ مطلب ہوگا کہ ہر گاہ تم باز نہیں آتے اور صرف سچے معبود ہی کی پرستش نہیں کرتے اور بتوں کی پرستش کرتے ہو تو ہم بھی وہ کریں گے جو ہمارے دین میں ہے کہ تم سے بجہا د پیش آویں گے۔غرض آیت جہاد کی مانع نہیں۔فقره عزیز من خاتمہ خط پر ایک ضروری فائدہ لکھ کر خط کو اب ختم کرتا ہوں۔فائدہ حدیث یا قرآن کے موافق ہے یا قرآن کی تفسیر ہے یا ایسے حکم کی مثبت ہے جس کا ذکر ہمیں قرآن کریم میں معلوم نہیں ہوا پس جو حدیث صحیح ہمیں زائد علی کتاب اللہ نظر آئے وہ نبی کریم کا استنباط ہے قرآن کریم سے۔ہمارے فہم سے بالا تر ہے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے وَمَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ الله - ( النسا: ١) وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ _ (الحشر: ٨) دیکھو حدیث سے بھتیجے کا نکاح اس کی پھوپھی پر اور بھانجے کا اس کی خالہ پر حرام ہے۔حدیث سے رضاعت کی حرمت نسبتی حرمت کی طرح ثابت ہے حالانکہ قرآن کریم میں أُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاء ذلکم نام موجود ہے۔وطن میں رہن کا رکھنا جدہ کو وارث بنانا بنت الا بن کو سدس دلا نا حائض پر روزہ نماز چند روز موقوف سمجھنا۔نہایت ضعیف خبر سے نبیذ التمر کے ساتھ وضو کر لینا حالانکہ قرآن میں پانی نہ ہوتو تیم کا حکم ہے۔ادنی مہر کے لئے مفلس سے مفلس کے لئے دس درہم معین کرنا۔لا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الكافر پر عمل کرنا۔چور کا پاؤں کاٹنا حالانکہ قرآن میں ہاتھ کاٹنا مذکور ہے۔طواف میں قیاسا طہارت لے اور ( زیادتی کے جواب میں ) زیادتی کے سواء چارہ نہ رہا ہم نے ان کے ساتھ وہی (سلوک) کیا جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا۔اسی طرح كَما تدين تدان “ آیا ہے جیسا کرو گے تم سے بھی ویسا ہی کیا جائے گا۔۲۔جس نے رسول کا حکم مانا اور اس کی اطاعت کی بے شک اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔۳ اور جو کچھ تم کو رسول دے ، لے لو۔(ناشر) ہے اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال ہیں۔۵ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔(صحیح البخاری، کتاب الفرائض باب لايرث المسلم الكافر ، روایت نمبر ۶۷۶۴)