حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 316
حقائق الفرقان ۳۱۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہفتم۔صحابہ پر بڑا سوء ظن ہے کہ انہوں نے منسوخ حدیث رفع یدین کو بیان کیا اور ناسخ کی روایت نہ کی۔ہشتم۔جائز ہے کہ ابن عمر نے رفع یدین کو عزیمت خیال فرمایا اور عدم رفع کو رخصت اور رخصت پر عمل کیا۔نہم۔قیاس نص کا ناسخ نہیں ہوتا۔وہم۔یہاں اصل یعنی سجدے کی رفع یدین کو منسوخ کہنا ہی صحیح نہیں۔فرع یعنے نُسِحَ رَفع عِنْدَ الرَّكُوعِ وَالرَّفْعُ عِنْدَ الرَّفْعِ مِنْهُ وَعِنْدَ الثَّالِثَةِ - لے کیونکر ثابت ہوسکتا ہے۔فائدہ۔ابن زبیر سے یہ رفع ثابت ہے اور نسخ کی روایت ان سے بالکل ثابت نہیں ایسا ہی ابن مسعود سے نصا نسخ ثابت نہیں۔دوسری بات کی غلطی سجدتین کی رفع نسائی میں مالک بن حویرث سے۔ابو داؤد میں عبد اللہ بن زبیر سے۔جس کی تصدیق ابن عباس نے کی۔ابن ماجہ میں ابوہریرہ سے موجود ہے۔ان روایات پر جو کچھ کلام ہے اس کا محل اور ہے اور سجدتین کی رفع۔انس۔ابن عمر۔ابن عباس حسن بصری۔عطاء۔طاؤس۔امام مالک۔شافعی کا مذہب ہے۔اگر اجماعاً یہ رفع منسوخ ہوتی تو یہ خلاف کیوں ہوتا۔دوم۔اثبات کی روایات کو ایسی جگہ نفی کی روایات پر خواہ مخواہ ترجیح حاصل ہے۔سوم۔ثقہ کی زیادتی مقبول ہونے میں جمہور کا اتفاق ہے اور سجدتین کی رفع ثقات کی زیادتی ہے۔چہارم۔جن لوگوں نے نفی کی روایت کی ہے ان کی روایت اس لئے مضر نہیں کہ یہ رفع یدین سجد تین کے وقت رسول اللہ صلعم نے کبھی ترک کی اور راوی نے رفع یدین کرتے نہ دیکھا اس لئے عدم رفع کی روایت کر دی۔صاحب البدایہ والنہایہ نے ترک فاتحہ خلف الامام پر اجماع صحابہ کا دعوئی کیا ہے۔ابطال دعولی اجماع کی تفصیل کا محل نہیں انشاء اللہ کسی اور جگہ مذکور ہوگا۔رکوع کرتے وقت رفع یدین کرنا اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرنا اور تیسری رکعت کے آغاز میں رفع يدين کرنا۔(ناشر)