حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 198
حقائق الفرقان ۱۹۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس کا ذکر پہلے آچکا ہے چنانچہ فرما یا فَأَمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنَى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة:۳۹) یعنی تم میری ہدایت کے پیرو بنو تو میں تمہیں لَا خَوْفٌ وَلَا يَحْزَنُونَ زندگی دوں گا۔اس وقت کیسی مصیبت کے دن ہیں۔سات کروڑ کے قریب مسلمان کہلاتے ہیں چھ کروڑ کے کان میں قرآن کبھی نہیں گیا ایک کروڑ ہوگا جو یہ سنتا ہے کہ قرآن ہے مگر اسے سمجھنے کا موقع نہیں۔پھر چند ہزار ہیں جو قرآن مجید با ترجمہ پڑھتے ہیں۔اب یہ دیکھو کہ ان میں عمل درآمد کے لئے کس قدر تیار ہیں۔میں نے ایک بڑے عالم فاضل کو دیکھا جن کا میں بھی شاگر د تھا۔وہ ایک پرانا عربی خطبہ پڑھ دیتے تھے۔ساری عمر اس میں گزار دی اور قرآنِ مجید نہ سنایا حالانکہ علم تھا، فہم تھا، ذہین و ذ کی تھے ، نیک تھے، دُنیا سے شاید کچھ بھی تعلق نہ تھا۔پھر ان کی اولادکو بھی میں نے دیکھا وہ بھی اسی خطبہ پر اکتفا کرتی۔میں نے آنکھ سے روزانہ التزام درس کا کہیں نہیں دیکھا۔ان بعض ملکوں میں یہ دیکھا ہے کہ کسی فقہ کی کتاب کی عبارت عشاء کے بعد سنادیتے ہیں۔پس میں تمہیں مخاطب کر کے سناتا ہوں۔اللہ فرماتا ہے ہمارے فضلوں کو یاد کرو اور میرے عہدوں کو پورا کرو میں بھی اپنے عہد پورے کروں گا۔کبھی ملونی کی بات نہ کیا کرو اور گول مول باتیں کرنا ٹھیک نہیں۔حق کو چھپایا نہ کرو بحا لیکہ تم جانتے ہو۔قرآن شریف میں دو ہی مضمون ہیں ایک تعظیم لآمر الله - لا إلهَ إِلَّا الله کے ساتھ مُحمد رسُولُ اللہ اس کلمہ توحید کی تکمیل کے لئے ہے۔دوم شفقت علی خلق اللہ۔اس مضمون کو کھول کر بیان فرماتا ہے کہ خدا کی تعظیم کے واسطے نمازوں کو مضبوط کرو اور باجماعت پڑھو۔آجکل تو یہ حال ہے کہ امراء مسجد میں آنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔حرفت پیشہ کو فرصت نہیں۔زمیندار صبح سے پہلے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور عشاء کے قریب واپس آتے ہیں۔ایک وقت کی روٹی باہر کھاتے ہیں۔پھر واعظوں اور قرآن سنانے والوں کو فرماتا ہے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔علماء، 1 پھر جب جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت نامے آتے رہیں گے اُس اُس وقت جو جو شخص اُن میرے ہدایت ناموں کی پیروی کرے گا اُسے کسی قسم کا نہ آئندہ خوف ہوگا اور نہ گزشتہ ہی عمل کے لئے وہ غمگین ہوگا۔(ناشر)