حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 197
حقائق الفرقان ۱۹۷ سُورَةُ الْبَقَرَة اُمت اور اولاد ہو کر ہم نفس و شیطان کے مقابلہ میں بزدلی دکھا ئیں تو ہم پر افسوس ہے! نعمتى التى انْعَمْتُ عَلَيْكُم وہ نعمت کیا تھی۔دوسری جگہ فرما یا کہ تم میں سے انبیاء وملوک بنائے اور وہ کچھ دیا جو دوسروں کو نہ دیا گیا۔اب اے مسلمانو! تم اپنی حالت پر غور کرو کہ تم پر بھی یہ انعام ہو چکے ہیں۔اس کتاب پر ایمان لاؤ کیونکہ اس کتاب کی خوبی یہ ہے کہ تمام نصائح کی جامع ہے۔اگر کسی اگلی کتاب میں تحریف ہو چکی ہے تو یہ اسے صاف کرتی ہے۔البدر جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۶ /نومبر ۱۹۰۸ء صفحه ۳) اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یعقوب کی اولا د کو ، بنی اسرائیل کو بہادر سپاہی کے بیٹوں سے خطاب کیا۔مسلمانوں کو عبرت چاہیے کہ تم بھی کسی بہادر سپاہی کی قوم ہو۔محمد رسول اللہ تمہارا امام تھا۔صحابہ کرام اور تابعین کی اولا د ہو۔تمہیں یاد ہے کہ تم پر کیا کیا فضل ہوئے۔پہلا فضل تو یہی ہے کہ تم کچھ نہ تھے۔پیدا ہوئے پھر مسلمان ہوئے۔قرآن جیسی کتاب تمہیں دی گئی۔محمد رسول اللہ جیسا خاتم النبیین رسول عطا فرمایا۔تمہیں سمجھانے کے لئے متنبہ کرنے کے لئے دوسروں کے حالات سناتا ہے کہ ایک قوم کو ہم نے بڑی نعمتیں دی۔فَكَفَرَتْ بِانْعُدِ اللهِ (النحل : ۱۱۳) اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی کچھ قدر نہ کی تو ہم نے ان کو بھوک کی موت مارا۔بھوک کی موت۔بہت ذلّت کی موت۔بہت دُکھ کی موت ہوتی ہے۔میں نے ان اپنی آنکھوں سے بھوک کی موت مرتے لوگ دیکھے ہیں۔دودھ ان کے منہ میں ڈالیں تو وہ بھی حلق سے نیچے نہیں اترتا۔کشمیر میں خطرناک قحط پڑا کا فرتوسو کبھی کھاتے ہیں ان کے باورچی خانہ کے اردگر دلوگ جمع ہو جاتے کہ شاید کوئی چھچھڑ مل جائے۔یہ حالت اضطراری تھی اس لئے مسلمان معذور تھے۔پندرہ بڑے بڑے غرباء خانے تھے اور رئیس چار سیر گیہوں خرید کر سولہ سیر کے حساب سے دیتا مگر پھر بھی خدا ہی دے تو بندہ کھائے بندے کی کیا ہی طاقت ہے کہ اتنی دُنیا کی رزق رسانی کر سکے۔غرض اللہ تعالیٰ ایک قوم کو نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے اوفوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُم مجھ سے جو عہد کیا تھا وہ پورا کرو تو میں وہ عہد پورا کروں گا جو تم سے کیا تھا۔ا پھر اس نے ناشکری کی اللہ کے انعاموں کی (یعنی نبوت و قرآن و توحید کی )۔(ناشر)