حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 102 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 102

حقائق الفرقان ۱۰۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس کے لطیف معنے اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بتائے ہیں۔ایک آدمی ایسا شریر ہوتا ہے اور گندا ہوتا ہے کہ جب اس کو اس کی بھلائی کے لیے کوئی بات کہتے ہیں تو معاوہ انکار کر جاتا ہے۔اس کو اس خیر خواہی پر ذرا بھی پرواہ نہیں ہوتی اس واسطے اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔میں نے بارہا یہ کہا ہے کہ میں تم سے کسی بات کا خواہش مند نہیں۔اپنی تعظیم کے لیے تمہارے اٹھنے کا محتاج نہیں۔تمہارے سلام تک کا محتاج نہیں۔باوجود اس کے میں کسی کو کچھ کہتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں لیکن ایسے بھی ہیں کہ ابھی تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو نصیحت کی اس نے مجھ کو دو ورق کا خط لکھ کر دیا۔خلاصہ کلام جو انسان کو دکھ پہنچتا ہے تو کسی گناہ کے ذریعہ سے اس کو پہنچتا ہے۔البدر جلد ۱۴ نمبر ۲۰ مورخه ۲۷ / نومبر ۱۹۱۳ء صفحه ۳) مسئلہ تقدیر اور انسانی تصرف ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے جو قوی اور اعضاء دیئے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جن پر انسان کا کوئی دخل اور تصرف نہیں ہے۔مثلاً انسان کے جوڑ ، ہڈیاں، پٹھے، پر دے بنا دیئے ہیں جن میں وہ کوئی دست تصرف نہیں رکھتا۔اس کا قدا گر لمبا ہے تو وہ اسے چھوٹا نہیں کر سکتا اور اگر چھوٹا ہے تو بڑا نہیں کر سکتا۔علی ھذا القیاس اعضاء کی ساخت میں کچھ دخل نہیں دے سکتا تو اس قسم کے اعضاء پر جن میں انسان کا کوئی دخل اور تصرف نہیں ہے شریعت اسلام نے بھی کوئی حکم انسان کو نہیں دیا کیونکہ اس میں انسان کے اجتہاد کا کوئی دخل نہیں ہے صانع حقیقی نے جو کچھ بنا دیاوہ اُسے بہر حال منظور کرنا پڑتا ہے اور اسی لئے جو شریعت ایسے امور میں کوئی حکم تجویز کرتی ہے وہ کبھی خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔دوسرے وہ اعضاء ہیں جن پر انسان کا دخل اور تصرف ہوتا ہے اور ان کے فعل کے ارتکاب یا ترک پر وہ قدرت اور استطاعت رکھتا ہے مثلاً زبان کہ اس میں ایک قوت تو چکھنے کی ہے جس سے مزا کی تمیز کرتی ہے کہ کھٹا ہے یا میٹھا نمکین ہے کہ پھیکا۔یہ اس کی ایسی قوت ہے کہ انسان کا اس پر تصرف نہیں ہے جو مزا شئے کا ہو گا تندرست زبان وہی محسوس کرے گی مگر زبان سے بولنا یہ اس کی ایک اور قوت ہے جس پر انسان مقدرت رکھتا ہے خواہ بولے یا نہ بولے۔ایک امر واقعہ کے خلاف بیان