حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 103
حقائق الفرقان ۱۰۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کرے یا اس کے موافق کہے۔اسی طرح آنکھ ہے کہ اس میں جو قوت بینا ئی ہے اس پر انسان کا تصرف نہیں ہے مگر کہاں کہاں نظر کو ڈالے اور کہاں کہاں نہ ڈالے یا ایک دفعہ ڈالے مگر دوسری دفعہ نہ ڈالے اس پر انسان کا تصرف ہے اس لئے ایسے امور میں جن میں انسان کا تصرف ثابت ہے احکام بتلائے ہیں کہ انسان ان کی خلاف ورزی نہ کرے۔البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۳۹) اس بیان سے یہ ثابت ہے کہ انسان کن کن امور میں مجبور اور کن کن میں مختار ہوتا ہے۔اس لفظ مختار اور مجبور پر بھی لوگوں نے بحث کی ہے لیکن قرآن شریف اور احادیث اور آثار صحابہ میں یہ الفاظ کہیں استعمال نہیں ہوئے۔پھر نہیں معلوم کہ اہل اسلام کو ان الفاظ پر بحث کرنے کی ضرورت کیوں آپڑی اور اگر یہ الفاظ استعمال میں آگئے ہیں تو بھی ان سے ذاتِ باری پر کوئی حرف نہیں آ سکتا۔صاف ظاہر ہے کہ جیسے ایک مجبور کو سزا دینی ظلم ہے ویسی ہی ایک مختار کو پکڑنا بھی ظلم ہے۔تم اس شخص کے حق میں کیا کہو گے جو ایک آدمی سے جبراً ایک فعل کرواتا ہے اور پھر اسے اس پر سزا دیتا ہے یا ایک شخص کو تمام اختیارات دے دیئے ہیں کہ جو چاہے کرے مگر پھر اس کی حرکتوں پر اسے گرفت کیا جاتا ہے ایسے آدمی کا نام سوائے احمق کے اور کیا ہو گا؟ پس یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی ذات ایسے خطاب سے پاک ہے اور نہ اس کے علم اور قدرت کا یہ تقاضا ہو سکتا ہے کہ مختار یا مجبور کی حالت میں انسان کو سزا دیوے۔اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ پھر انسان سے کیوں باز پرس ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب ایک کو دخل اور تصرف دے کر نتائج سے آگاہ کر دیا جاتا ہے اور یہ سب اُسے حاکمانہ حیثیت سے عطا کر کے بتلایا جاتا ہے تو اس وقت اگر کوئی خلاف ورزی کرے تو وہ قابل مواخذہ ضرور ہوتا ہے۔دنیاوی حکاموں اور سلطنتوں میں اس کی نظیریں موجود ہیں کہ ایک عہدہ دار یا ملازم کو دخل اور تصرف مال و زر یا دیگر اشیاء سرکاری پر دیا جاتا ہے، اس کے اختیارات کا اسے علم ہوتا ہے، اس کی حدود مقرر ہوتی ہیں اور جب ان کو ٹھیک ٹھیک بجالا وے تو قابل انعام و شکر یہ ہوتا ہے خلاف ورزی کرے تو سزا پاتا ہے یہی حال انسان کا اس دنیا میں ہے اور خود آسمانی کتابوں کا نازل ہونا اس امر کی